نیٹ امتحان کا سب سے بڑا اسکام : قسط دوم

عام طور پر NEET کے سوالیہ پرچے مجاز (Authorized) پرنٹنگ پریس میں چھاپے جاتے ہیں۔ اب تک کی تحقیقات کے مطابق، یہ پرچہ مبینہ طور پر مہاراشٹر کے ناسک میں واقع ایک ایسے ہی پرنٹنگ پریس سے لیک ہوا تھا۔ تحقیقات کے مطابق، اس پرنٹنگ پریس سے وابستہ ایک شخص نے کسی طرح سوالیہ پرچہ حاصل کیا اور اسے ایک منظم نیٹ ورک تک پہنچا دیا۔ یہ کوئی عام طلبہ کا گروہ نہیں تھا بلکہ نہایت منصوبہ بندی اور جدید طریقۂ کار کے ساتھ کام کر رہا تھا۔ دعویٰ کیا گیا کہ پکڑے جانے سے بچنے کے لیے سوالیہ پرچے کو موبائل فون سے اسکین نہیں کیا گیا بلکہ ایک ہائی ڈیفینیشن پورٹیبل اسکینر استعمال کیا گیا۔ سب سے حیران کن بات یہ بتائی گئی کہ اس گروہ نے ناسک کے مضافات میں ایک شیڈو سرور (Shadow Server) بھی قائم کیا تھا تاکہ ڈیٹا کی منتقلی کو خفیہ رکھا جا سکے اور ایجنسی کی نظر سے بچا جا سکے۔ انڈین ایکسپریس کی ایک رپورٹ کے مطابق، ناسک کے ایک میڈیکل طالب علم شبھم کھیرنار نے مبینہ طور پر 10 لاکھ روپے دے کر سوالیہ پرچے کی اصل کاپی حاصل کی، پھر اس کی سافٹ کاپی بنا کر اسے 15 لاکھ روپے میں گڑگاؤں میں فروخت کر دیا۔

گڑگاؤں میں اس پرچے کی بنیاد پر ایک ہاتھ سے لکھا ہوا Guess Paper تیار کیا گیا، جس میں NEET کے اصل پرچے کے 135 میں سے 120 سوالات شامل کیے گئے، جبکہ باقی سوالات دوسری جگہوں سے شامل کر دیے گئے تاکہ کسی کو شک نہ ہو۔ اس طرح مجموعی طور پر 410 سوالات پر مشتمل ایک گیس پیپر تیار ہوا، اور بعد میں اس کے کئی مختلف ورژن بھی بنائے گئے۔ NEET کے امتحان سے تقریباً ایک ہفتہ پہلے، 26 اپریل 2026 کو گڑگاؤں کے ایک ڈاکٹر نے یہی گیس پیپر مبینہ طور پر 30 لاکھ روپے میں راجستھان کے جاموا رام گڑھ کے دو بھائیوں، مانگی لال اور دنیش بیوال، کو فروخت کیا۔

ان دونوں ناموں کو یاد رکھیے، کیونکہ آگے چل کر یہی اس پوری کہانی کے اہم کردار بنتے ہیں۔ ان میں سے ایک بھائی نے یہ پرچہ اپنے بیٹے کو بھیج دیا، جو سیکر میں NEET کی تیاری کر رہا تھا۔ لیکن معاملہ یہیں ختم نہیں ہوا۔

29 اپریل تک ان دونوں بھائیوں نے یہ گیس پیپر مختلف امیدواروں کو فروخت کرنا شروع کر دیا تھا۔ اسی دوران یہ پرچہ سیکر کے ایک MBBS کاؤنسلنگ ایجنٹ راکیش کمار منوالیا تک پہنچا، جس نے اسے مبینہ طور پر 5 لاکھ روپے میں خریدا۔ الزام ہے کہ صرف راکیش نے ہی تقریباً 700 طلبہ میں یہ گیس پیپر تقسیم کیا۔ انہی میں ایک کیرالہ کا MBBS طالب علم بھی شامل تھا، جسے راکیش نے یہ پرچہ 30 ہزار روپے میں فروخت کیا۔ یہی وہ طالب علم تھا جس کا ذکر آغاز میں کیا گیا تھا۔ اسی طالب علم نے 2 مئی کو سیکر میں اپنے والد کو وہ سوالات واٹس ایپ پر بھیجے۔ امتحان کے بعد جب اس کے والد نے ایک کوچنگ ٹیچر سے ان سوالات کی جانچ کرائی تو 180 میں سے 135 سوالات اصل امتحان سے مطابقت رکھتے تھے۔

یہ دیکھ کر والد کو احساس ہوا کہ یہ کوئی عام گیس پیپر نہیں بلکہ مبینہ طور پر اصل سوالیہ پرچے کا لیک شدہ مواد ہے۔ اس کے بعد انہوں نے سب سے پہلے سیکر کے ادیوگ نگر پولیس اسٹیشن میں شکایت درج کرانے کی کوشش کی، مگر ان کے مطابق پولیس نے انہیں یہ کہہ کر واپس بھیج دیا کہ "افواہیں نہ پھیلائیں۔" اس کے بعد انہوں نے براہِ راست نیشنل ٹیسٹنگ ایجنسی (NTA) سے رابطہ کیا، جو NEET کا امتحان منعقد کراتی ہے۔ NTA نے یہ معلومات سنٹرل انٹیلیجنس بیورو کو فراہم کی، جہاں سے راجستھان پولیس کو الرٹ کیا گیا۔ اس کے بعد ریاستی اسپیشل آپریشنز گروپ (SOG) نے باقاعدہ تحقیقات کا آغاز کیا۔ ابتدائی طور پر SOG کو لگا کہ شاید یہ ایک الگ تھلگ واقعہ ہے، لیکن جب انہوں نے گیس پیپر کے پھیلاؤ کا سراغ لگایا تو حیران کن حقائق سامنے آئے۔

تحقیقات میں معلوم ہوا کہ واٹس ایپ پر بھیجے گئے پیغام پر "Forwarded Many Times" درج تھا، جس سے اندازہ ہوا کہ یہ فائل بڑی تعداد میں لوگوں تک پہنچ چکی تھی۔ اسی مرحلے پر تفتیشی افسران کو احساس ہوا کہ یہ معاملہ کسی ایک یا دو افراد تک محدود نہیں بلکہ مبینہ طور پر بڑے پیمانے پر سوالیہ پرچہ لیک ہوا ہے۔ SOG کے ایڈیشنل ڈائریکٹر جنرل وشال بنسل کے مطابق، یہ پرچہ بعض طلبہ کے پاس امتحان سے تقریباً ایک ہفتہ پہلے موجود تھا، جبکہ کچھ طلبہ کے پاس ایک ماہ پہلے ہی پہنچ چکا تھا۔ بالآخر 12 مئی کو NTA نے NEET کا امتحان سرکاری طور پر منسوخ کر دیا اور اس پورے معاملے کی تحقیقات CBI کے سپرد کر دی گئیں۔ اس کیس میں سب سے زیادہ توجہ بیوال برادران، یعنی مانگی لال اور دنیش بیوال، پر مرکوز ہوئی، جن پر الزام ہے کہ انہوں نے گڑگاؤں سے پرچہ خرید کر سیکر میں متعدد افراد تک پہنچایا۔ رپورٹس کے مطابق، ان میں سے ایک بھائی دنیش بیوال، بھارتیہ جنتا یووا مورچہ (BJP Youth Wing) کا رکن بھی ہے، اور سوشل میڈیا پر اس کی مختلف سیاسی شخصیات کے ساتھ تصاویر بھی گردش کرتی رہی ہیں۔سوشل میڈیا پر لوگوں نے کئی ایسے ہورڈنگز کی تصاویر شیئر کیں جن میں دنیش بیوال کی تصویر موجود ہے اور انہیں بی جے پی کا رہنما بتایا گیا ہے۔ ایک ہورڈنگ پر ان کے نام کے ساتھ "بھارتیہ جنتا یووا مورچہ، ضلع وزیر، جے پور دیہات" بھی لکھا ہوا نظر آتا ہے۔ لیکن معاملہ یہیں ختم نہیں ہوتا۔ دنیش بیوال کے اپنے سوشل میڈیا اکاؤنٹس پر بھی بی جے پی کے کئی رہنماؤں کے ساتھ تصاویر موجود ہیں۔ ان میں راجستھان کے وزیرِ تعلیم مدن دلاور کے ساتھ بھی ان کی تصاویر شامل ہیں۔

ذرا سوچیے، ایک ایسا شخص جو اس مبینہ پیپر لیک کیس میں ملزم ہے، اس کی ریاست کے وزیرِ تعلیم کے ساتھ تصاویر سامنے آتی ہیں۔ اس سے نظام پر کئی سوالات کھڑے ہوتے ہیں۔مزید یہ کہ ایک ویڈیو میں دنیش بیوال راجستھان اسمبلی انتخابات کے دوران بی جے پی امیدوار نند کشور بینیوال کے حق میں ووٹ مانگتے ہوئے بھی نظر آتے ہیں۔رپورٹس کے مطابق، India Today کا دعویٰ ہے کہ بیوال برادران کو تقریباً ایک ماہ پہلے ہی معلوم تھا کہ اس سال NEET کا پرچہ لیک ہونے والا ہے۔ اگر یہ دعویٰ درست ہے تو اس کا مطلب یہ ہوگا کہ یہ کوئی اکا دکا شخص کا معاملہ نہیں بلکہ ایک منظم منصوبہ تھا۔ مزید شبہ اس بات سے پیدا ہوتا ہے کہ ان دونوں بھائیوں کے خاندان کے چار بچوں نے گزشتہ سال NEET کا امتحان کامیاب کیا تھا۔ اس کے بعد یہ سوال بھی اٹھایا جا رہا ہے کہ آیا گزشتہ سال بھی کسی قسم کی بے ضابطگی ہوئی تھی یا نہیں۔ تاہم، اس بارے میں کوئی حتمی ثبوت یا سرکاری نتیجہ سامنے نہیں آیا۔ ان تمام سوالات کے واضح جواب صرف ایک غیر جانبدار، شفاف اور مکمل تحقیقات سے ہی مل سکتے ہیں۔

اسی دوران مختلف اداروں کے بیانات میں بھی تضاد دیکھنے کو ملا۔ راجستھان کے تفتیش کاروں کا کہنا تھا کہ اس لیک کا مرکز راجستھان نہیں بلکہ مہاراشٹر تھا، جبکہ ناسک کے پولیس حکام نے یہ کہہ کر ان دعوؤں کی تردید کی کہ ناسک سے پرچہ لیک ہونے کی خبریں بے بنیاد ہیں، بلکہ ان کے مطابق پرچہ وہاں چھاپا ہی نہیں گیا تھا۔ ایسے میں سوال پیدا ہوتا ہے کہ حقیقت کیا ہے؟ کون درست کہہ رہا ہے اور کون نہیں؟ دونوں ریاستوں کے بیانات ایک دوسرے سے مختلف ہیں ۔ دوسری جانب NTA کے ڈائریکٹر جنرل ابھشیک سنگھ نے کہا کہ ان کے مطابق پورا سوالیہ پرچہ لیک نہیں ہوا، بلکہ صرف ایک PDF گردش کر رہی تھی جس میں موجود کئی سوالات اصل امتحان سے ملتے جلتے تھے۔ اس مؤقف پر بھی عوام کی جانب سے شدید تنقید سامنے آئی، کیونکہ متعدد رپورٹس میں یہ دعویٰ کیا گیا تھا کہ 180 میں سے 135 سوالات مبینہ لیک شدہ مواد سے مطابقت رکھتے تھے۔ اسی وجہ سے سوشل میڈیا پر بعض صارفین نے طنزیہ انداز میں NTA کو "National Tampering Agency" کہنا شروع کر دیا۔

یہ پہلا موقع نہیں تھا جب NEET کے حوالے سے ایسے الزامات سامنے آئے ہوں۔ 2024 میں بھی امتحان سے قبل مبینہ پیپر لیک، غیر معمولی گریس مارکس اور دیگر بے ضابطگیوں کے الزامات سامنے آئے تھے۔ اس معاملے پر ملک بھر میں احتجاج ہوئے، کیس سپریم کورٹ تک پہنچا، اور CBI نے بھی تحقیقات کیں۔ تاہم ناقدین کا کہنا ہے کہ ان تحقیقات کے باوجود نظام میں بنیادی اصلاحات نہیں ہوئیں، اور نہ ہی امتحانی نظام میں ایسی تبدیلیاں کی گئیں جو مستقبل میں اس طرح کے واقعات کو روک سکیں۔ جب مرکزی وزیرِ تعلیم دیوندر پردھان سے اس معاملے پر سوال کیا گیا تو میڈیا رپورٹس کے مطابق انہوں نے اس پر کوئی تفصیلی جواب نہیں دیا۔ بعد ازاں NTA نے دوبارہ امتحان (Re-exam) کرانے کا اعلان کیا اور کہا کہ امیدواروں کو دوبارہ رجسٹریشن یا اضافی فیس ادا نہیں کرنی ہوگی۔

لیکن اصل سوال یہ ہے کہ دوبارہ امتحان کی وجہ سے طلبہ پر جو ذہنی، جذباتی اور وقت کا بوجھ پڑا، اس کا ازالہ کون کرے گا؟ لاکھوں طلبہ نے مہینوں محنت کی، خاندانوں نے کوچنگ پر بھاری اخراجات کیے، نوجوانوں نے اپنی سماجی زندگی، آرام اور ذہنی سکون قربان کیا، جبکہ اگر چند افراد واقعی ناجائز ذرائع سے فائدہ اٹھانے میں کامیاب ہوئے ہوں تو اس کا نقصان پورے نظام کو اٹھانا پڑتا ہے۔ حقیقت یہی ہے کہ جب تک امتحانی نظام میں شفافیت، مضبوط نگرانی اور جوابدہی کو یقینی نہیں بنایا جاتا، اس طرح کے تنازعات دوبارہ جنم لیتے رہیں گے۔

اگر آپ ایک طالب علم یا والدین ہیں اور ایسے واقعات دیکھ کر مایوسی محسوس کرتے ہیں تو یہ ایک فطری احساس ہے۔ تاہم یہ بھی یاد رکھنا چاہیے کہ زندگی کی کامیابی صرف ایک امتحان یا ایک پیشے تک محدود نہیں ہوتی۔کامیابی کے پیچھے نہیں، قابلیت کے پیچھے دوڑیں۔ جب انسان اپنے کام میں مہارت حاصل کرتا ہے تو کامیابی اکثر خود اس کے قدم چومتی ہے۔ آج کے دور میں طب اور انجینئرنگ کے علاوہ بھی بے شمار شعبے موجود ہیں، جیسے ڈیٹا سائنس، UX ڈیزائن، پائیدار ترقی (Sustainability)، کانٹینٹ کریئیشن، اسپورٹس اینالیٹکس، کلائمیٹ ریسرچ اور کئی دوسرے میدان، جہاں بہترین مواقع اور روشن مستقبل موجود ہے۔مسئلہ صرف یہ ہے کہ ان متبادل کیریئرز کے بارے میں نہ اسکولوں میں مناسب رہنمائی دی جاتی ہے، نہ اکثر والدین ان سے واقف ہوتے ہیں، جس کی وجہ سے بہت سے طلبہ یہی سمجھتے ہیں کہ ڈاکٹر یا انجینئر بننا ہی کامیابی کا واحد راستہ ہے ، فی الحال کاکروچ نامی پارٹی کا احتجاج دیوندر پردھان کے استعفی کی مانگ کا سلسلہ چل رہا ہے آگے دیکھتے ہیں کیا حل نکلتا ہے ۔ انتہاء

قسط اول پڑھنے کے لیے......

ایک تبصرہ شائع کریں

آپ اپنی رائے ضرور لکھیں

جدید تر اس سے پرانی