الوہا ایئر لائنز فلائٹ 243 کی لرزہ خیز داستان : قسط دوم

سب سے پہلا خطرہ آکسیجن کی کمی تھا۔ چوبیس ہزار فٹ کی بلندی پر انسان زیادہ دیر تک بغیر مناسب آکسیجن کے زندہ نہیں رہ سکتا۔ اگر جہاز چند ہی منٹ مزید اسی بلندی پر رہتا تو ایک ایک کرکے تمام مسافر بے ہوش ہو جاتے، اور پھر شاید کبھی آنکھ نہ کھول پاتے۔ کیپٹن نے لمحہ بھر کی تاخیر کیے بغیر جہاز کا رخ زمین کی طرف موڑ دیا۔ جہاز تیزی سے نیچے اترنے لگا... یہ معمول کی لینڈنگ نہیں تھی ، بلکہ زندگی بچانے کی ایک بے مثال کوشش تھی۔ ہر منٹ میں ہزاروں فٹ کی رفتار سے بلندی کم ہو رہی تھی، جبکہ کاک پٹ کے اندر خطرے کی گھنٹیاں مسلسل بج رہی تھیں۔
اسی دوران ایک اور ہولناک حقیقت سامنے آئی۔ دھماکے نے صرف جہاز کی چھت ہی نہیں اڑائی تھی، بلکہ اس کی مضبوط ساخت کو بھی شدید نقصان پہنچایا تھا۔ جہاز کا اگلا حصہ معمولی سا جھک چکا تھا اور پوری باڈی غیر معمولی دباؤ برداشت کر رہی تھی۔ کیپٹن کے ذہن میں ایک ہی سوال گردش کر رہا تھا۔ "اگر مزید دباؤ پڑا... تو کیا جہاز دو حصوں میں تقسیم ہو جائے گا؟" یہ خیال کسی بھی پائلٹ کے لیے خوفناک خواب سے کم نہ تھا۔ مگر یہ وقت سوچنے کا نہیں، فیصلہ کرنے کا تھا۔ میمی ٹامکنز نے فوری طور پر فضائی کنٹرول ٹاور سے رابطہ کیا۔

"ہم شدید ہنگامی صورتحال میں ہیں... جہاز بری طرح متاثر ہو چکا ہے... ہمیں فوری لینڈنگ کی ضرورت ہے ۔ " دوسری طرف کنٹرول روم میں سناٹا چھا گیا۔ چند لمحوں بعد جواب آیا: "ہونولولو تک جانے کی کوشش مت کیجیے... قریب ترین ہوائی اڈہ ماؤئی ہے، فوراً وہیں کا رخ کیجیے۔"
یہی واحد امید تھی۔ اب جہاز آہستہ آہستہ اس بلندی پر پہنچنے لگا جہاں مسافر نسبتاً آسانی سے سانس لے سکتے تھے۔ کیبن کے اندر بھی حالات کچھ سنبھلنے لگے۔ لوگ ابھی تک خوف سے کانپ رہے تھے، مگر انہیں محسوس ہوا کہ سانس لینا پہلے کے مقابلے میں قدرے آسان ہو گیا ہے۔ کئی مسافروں نے آنکھیں بند کرکے سجدۂ شکر ادا کیا، جبکہ کچھ نے خاموشی سے آسمان کی طرف دیکھا، جیسے زندگی انہیں ایک اور موقع دے رہی ہو۔ لیکن قسمت نے ابھی اپنی آخری آزمائش باقی رکھی تھی۔ جیسے ہی جہاز ماؤئی کی طرف بڑھا، سامنے ایک دیوقامت پہاڑی سلسلہ نمودار ہوا۔
بادلوں کے درمیان سر اٹھائے کھڑا وہ پہاڑ گویا موت کا ایک اور دروازہ تھا۔ اگر جہاز بہت نیچے آتا تو پہاڑ سے ٹکرا جاتا...اور اگر زیادہ اونچا رہتا تو آکسیجن کی کمی دوبارہ جان لیوا ثابت ہو سکتی تھی۔ یہ لمحہ کیپٹن کی پوری پیشہ ورانہ زندگی کا سب سے بڑا امتحان تھا ۔ انہوں نے رفتار کم کی، سمت بدلی، اور نہایت مہارت سے جہاز کو دو جزیروں کے درمیان موجود تنگ فضائی راستے میں داخل کر دیا۔ کاک پٹ میں خاموشی تھی... صرف انجنوں کی آواز اور آلات کی مسلسل تنبیہ سنائی دے رہی تھی۔

پھر اچانک... ایک مسافر نے کھڑکی سے نیچے دیکھا۔ دور افق پر ایک لمبی سیاہ پٹی دکھائی دے رہی تھی۔ وہ رن وے تھا...امید کی پہلی کرن۔ جہاز کے اندر پہلی مرتبہ لوگوں کو یقین ہونے لگا کہ شاید... صرف شاید... وہ آج زندہ زمین پر قدم رکھ سکیں۔ مگر انہیں یہ معلوم نہ تھا کہ اصل امتحان ابھی باقی تھا۔ کاک پٹ میں کپتان رابرٹ شورنسٹائمر اور معاون پائلٹ میمی ٹامکنز پوری یکسوئی سے لینڈنگ کی تیاری کر رہے تھے۔ باہر سے آنے والی یخ بستہ ہوائیں اب بھی جہاز کو جھنجھوڑ رہی تھیں، جبکہ اس کی زخمی ساخت ہر لمحہ مزید دباؤ برداشت کر رہی تھی ۔اچانک آلاتِ پرواز پر ایک اور تنبیہ نمودار ہوئی۔ لینڈنگ گیئر نیچے کیا گیا، مگر اشارے نے بتایا کہ مسئلہ پیدا ہو گیا ہے۔
جہاز کے تین پہیوں میں سے دو پچھلے پہیے تو اپنی جگہ آ چکے تھے، لیکن اگلے حصے کا پہیہ اپنی صحیح حالت ظاہر نہیں کر رہا تھا۔ کاک پٹ میں ایک لمحے کے لیے خاموشی چھا گئی۔ اگر اگلا پہیہ نہ کھلتا تو جہاز کو پیٹ کے بل اتارنا پڑتا، اور ایسی صورت میں اس بری طرح زخمی طیارے کے ٹوٹ کر بکھر جانے کا خدشہ بہت زیادہ تھا۔
ادھر رن وے کے کنارے فائر بریگیڈ کی گاڑیاں، ایمبولینسیں اور ریسکیو ٹیمیں صفیں باندھے کھڑی تھیں۔ ہر اہلکار کی نظریں آسمان پر جمی تھیں۔ کسی کو یقین نہیں تھا کہ یہ جہاز صحیح سلامت زمین تک پہنچ سکے گا۔

اسی دوران ایک نئی مصیبت نے سر اٹھایا۔ جہاز کا بایاں انجن غیر معمولی آوازیں نکالنے لگا، پھر اس کی طاقت کم ہونے لگی۔ کپتان نے اسے دوبارہ فعال کرنے کی کوشش کی، لیکن کوئی فائدہ نہ ہوا۔ اب پورا جہاز صرف ایک انجن کے سہارے اڑ رہا تھا۔ ایک طرف زخمی ڈھانچہ... دوسری طرف ایک بند ہوتا ہوا انجن... اور سامنے چند ہی لمحوں کی دوری پر رن وے۔ یہ وہ لمحہ تھا جب کاک پٹ میں بیٹھے دونوں پائلٹ جانتے تھے کہ اب واپسی کا کوئی راستہ نہیں۔
کیپٹن نے جہاز کو پوری مہارت سے سیدھا رکھا۔ ان کے ہاتھ کنٹرول پر مضبوطی سے جمے ہوئے تھے، مگر دل میں صرف ایک خواہش تھی کہ یہ درجنوں بے گناہ جانیں محفوظ رہیں۔ ادھر مسافروں نے بھی آنے والے انجام کے لیے خود کو تیار کر لیا تھا۔ کسی نے آنکھیں بند کر کے کلمہ پڑھنا شروع کر دیا۔ کوئی خاموشی سے آنسو بہا رہا تھا۔ کئی لوگ ایک دوسرے کو آخری بار گلے لگا رہے تھے۔ اور کچھ مسافر کھڑکی سے باہر زمین کو اس طرح دیکھ رہے تھے، جیسے برسوں بعد اپنے وطن کو دیکھ رہے ہوں۔ پھر... کیپٹن نے نہایت نرمی سے جہاز کو رن وے کی طرف جھکایا۔ ہر لمحہ ایسا محسوس ہو رہا تھا کہ شاید اگلے ہی پل جہاز کا زخمی جسم بکھر جائے گا۔ لیکن قسمت نے اس دن کچھ اور ہی لکھ رکھا تھا۔

اچانک...دھڑ...!جہاز کے پہیوں نے رن وے کو چھو لیا۔ ایک زوردار جھٹکا محسوس ہوا، مگر جہاز قابو میں رہا۔ کپتان نے فوراً بریک لگائے، بچے ہوئے انجن کی مدد سے رفتار کم کی، اور چند طویل لمحوں کے بعد وہ زخمی جہاز آخرکار مکمل طور پر رک گیا۔ چند لمحوں تک پورے جہاز میں خاموشی چھائی رہی۔ پھر اچانک ہر طرف سے سسکیوں، دعاؤں اور اللہ کا شکر ادا کرنے کی آوازیں بلند ہونے لگیں۔
کئی مسافر اپنی نشستوں پر بیٹھے بیٹھے رو رہے تھے۔
کئی لوگ سجدۂ شکر میں جھک گئے۔ اور کچھ ایسے بھی تھے جنہیں ابھی تک یقین نہیں آ رہا تھا کہ وہ زندہ ہیں۔
چند ہی لمحوں میں ریسکیو ٹیمیں جہاز تک پہنچ گئیں۔
ہنگامی راستے کھولے گئے، پھسلنے والی سلائیڈیں نیچے آئیں، اور ایک ایک کرکے مسافروں کو باہر نکالا جانے لگا۔
جب آخری مسافر بھی زمین پر پہنچ گیا تو سب کی نظریں ایک ہی سمت اٹھیں... کاک پٹ کی طرف۔ وہ دو انسان، جنہوں نے ناممکن کو ممکن بنا دیا تھا، آہستہ آہستہ باہر نکلے۔ لوگ بے اختیار ان کے لیے تالیاں بجانے لگے۔ کئی زخمی مسافروں نے آنسوؤں کے ساتھ ان کا شکریہ ادا کیا۔ اس دن اگر مہارت، حوصلہ اور حاضر دماغی کی کوئی زندہ مثال تھی، تو وہ انہی دو پائلٹوں کی صورت میں دنیا کے سامنے کھڑی تھی۔ مگر یہ معجزہ کیسے ممکن ہوا؟ جہاز کی مضبوط فولادی چھت آخر اچانک کیوں پھٹ گئی؟ کیا یہ محض ایک حادثہ تھا، یا برسوں کی غفلت کا نتیجہ؟ ان تمام سوالوں کا جواب تحقیقات کی وہ رپورٹ دینے والی تھی، جس نے پوری دنیا کی ایئرلائن کمپنیوں کو ہلا کر رکھ دیا۔

تیسری قسط کے لیے انتظار کریں 

1 تبصرے

آپ اپنی رائے ضرور لکھیں

جدید تر اس سے پرانی