امی نے سکون سے جواب دیا یہ زیادہ بہتر ہوگا۔ کم از کم ہر ایک کو سانس لینے کی جگہ تو ملے گی۔ ابراہیم نے دھڑ سے دروازہ بند کر دیا ، مگر تھوڑی دیر بعد ہی پہلے دانتوں کے ساتھ ہی ہی کرتا واپس آگیا اور آتے ہی کہنے لگا: سر رئیس فرع) کہہ رہا ہے کہ آدھ گھنٹے کے اندر قید تنہائی میں جانے کے لیے تیار ہو جاؤ۔ یوں ہمیں منفردات (قید تنہائی کے سیلوں) میں منتقل کر دیا گیا۔ انھوں نے امی اور ام شیما کو ایک سیل میں ، ماجدہ اور عائشہ کو دوسرے اور مجھے اور فوزیہ کو تیسرے میں بند کر دیا اور پھر وہ الحاجہ مدیحہ کی جانب دیکھ کر مزاحیہ انداز میں کہنے لگا: اور تمھارا کیا ارادہ ہے؟ کیا تم بھی ثانویہ کا امتحان نہیں دینا چاہتی؟
وہ بولیں : ہائے باپ۔۔۔ میں تو پڑھنا لکھنا تک نہیں جانتی۔
سوا نہیں بلاک میں ہی چھوڑ دیا گیا۔ اور ہمیں وہاں چند گھنٹے ہی ہوئے تھے کہ جب امی نے ایک دیوار پر وارف بھائی کے نام کے ساتھ شہید لکھا دیکھ لیا اور ان کی حالت بری ہو گئی۔ وہ رات گئے وہ ہمیں بلاک میں لے آئے اور ہماری درخواست کا کوئی جواب نہ دیا۔ لیکن اس سارے خوف اور ڈر کی فضا کے باوجود ہم اپنے اس عمل سے مطمئن تھے۔اس روز ہم کھانا کھا چکے تھے اور اکثر قیدی سوچکے تھے جب اچانک جیل میں گولیوں کی تڑ تڑاہٹ نے ہمیں سہا کر رکھ دیا۔ ایسا محسوس ہو رہا تھا کہ گولیاں ہمارے سروں کے اوپر سے " سنسناتی ہوئی گزر رہی ہیں۔ جیل میں مکمل اندھیرا چھا چکا تھا اور اہل کاروں کے بھاگنے اور بے دریغ اسلحہ استعمال کرنے کی آوازیں آرہی تھیں۔ سیلوں کی کھڑکیاں اور طاق بھی بند کر دیے گئے تھے، گولیاں کے ساتھ ایک ہی تیز آواز سنائی دیتیں خبر دار حرکت نہ کرنا ۔ ایسا لگ رہا تھا کہ کچھ گولیاں ہمارے بلاک کی بیرونی دیواروں سے ٹکرا رہی ہیں۔
امی وہیں وضو کر کے صلوۃ شہادت پڑھنا شروع کر دی۔ پھر انھوں نے ہمیں دیوار سے پرے کر دیا مبادا ہمیں کچھ نہ ہو جائے اور شور میں ایک مضطرب آواز گونجی : فلاں قتل ہو گیا. آؤ ہمیں اندازہ ہو گیا کہ وہ دروازے کی حفاظت پر مامور چوکیدار تھا اور پھر آہستہ آہستہ سکون ہو گیا۔ اندر سے الحاجہ نے ابراہیم سے پوچھا: کیا ہوا تھا ؟ اس نے ڈانٹ کر اسے خاموش کرا دیا اور یوں ہم اس معاملے کے بارے میں کچھ نہ جان سکے۔ رہائی۔۔۔ مگر زندگی سے ایک روز ساتھ والے سیل سے کسی نے الحاجہ کو سرگوشی کی : خالہ آپ میں کوئی حمات کی قیدی ہیں؟ ان سے کہیے ہم کل رہا ہو رہے ہیں۔ اگر ان کے گھر کوئی خط پہنچانا ہو تو ہم دے دیں گے۔ آپ اسے طاق میں رکھ دیں ہم نظر بچا کر اٹھا لیں گے۔ بعد میں معلوم ہوا کہ ان نوجوانوں سے رہائی کا وعدہ کیا گیا تھا، مگر انھیں شہید کر دیا گیا۔ چند دن نہ گزرے تھے کہ ایک مرتبہ پھر دروازہ کھلا اور ابو عادل چلا کر بولا: اٹھو اور استقبال کرو۔ اندر داخل ہونے والی خواتین کے لباس بوسیدہ اور خستہ حال تھے، وہ نوکرانیاں لگ رہی تھیں اندر داخل ہونے والی ایک خاتون پھوٹ پھوٹ کر رونے لگیں۔ الحاجہ مدیحہ نے بھیگی آنکھوں سے ان کے آنسو پونچھے: الحاجہ ریاض ! اللہ آپ کو خیر و عافیت سے رکھے۔ آخر کار میری سہیلی اس جگہ بھی میرا درد بانٹنے آہی گئی۔
الحاجہ مدیحہ نے بے تکلفی سے ساتھ بیٹھی لڑکی کو اٹھا کر الحاجہ ریاض کے لیے اپنے پہلو میں جگہ بنائی اور انھیں بڑی محبت سے اس طرح اپنے ساتھ چپکا لیا جیسے اب کبھی جدا نہ ہوں گی۔ باقی قیدی خواتین خوف کی فطری فضا میں ہماری جانب لپکیں ہمار ا بھی چین سے کچھ وقت بھی نہ گزرا تھا کہ تلخ حقائق کی پٹاریاں کھل گئیں۔ نئے مہمانوں کے لیے بلاک کا دامن تنگ پڑ گیا اور آنے والے دنوں میں کتنی ہی دشواریوں میں اضافہ ہو گیا۔ اس مرتبہ بین المسلیہ حلب سے پانچ خواتین کو یہاں منتقل کیا گیا تھا: الحاجہ ریاض نمی رغداء منتہی اور ایمان .... اور ان کا کفر السوسہ منتقل کیا جانا ان کی گرفتاری اور تعذیب سے کم مذاق نہیں تھا۔ انھیں سجن المسلیہ حلب سے یہ کہہ کر نکالا گیا کہ انھیں رہا کیا جا رہا ہے۔ دو دو خواتین کو ایک ہتھکڑی میں جکڑ دیا گیا ، ان کے ہمراہ سولہ قیدی خواتین کو رہائی مل بھی گئی، لیکن ان پانچ کو موصل کے راستے دمشق پہنچا دیا گیا۔ گاڑی حلب کے راؤنڈ اباؤٹ پر پہنچی تو الحاجہ ریاض نے نرمی سے ڈرائیور سے کہا: میرا گھر آہنی دروازے کے قریب ہی ہے۔ شاید آپ راستہ بھول گئے ہیں ؟ وہ انتہائی تمسخرانہ انداز میں کہنے لگا: نہیں ، فکر نہ کرو۔ ابھی ہم آہنی دروزے تک نہیں پہنچے۔ میں ذرا حلب کا ایک چکر لگا لوں پھر تم سب کو آہنی دروازے پر ہی اتاروں گا۔ الحاجہ اس کی مراد سمجھ گئیں اور غم سے بے ہوش ہو گئیں۔ لیمی کا چہرہ پیلا پڑ گیا انھوں نے سوچا کہ شاید انھیں سزائے موت پر عمل درآمد کے لیے لے جایا جا رہا ہے ۔ اہل کار ان کی بگڑتی حالت سے سارا راستہ مزا لیتے رہے اور ان بے چاریوں کا اضطراب اور خوف زود افزوں ہوتا رہا اور حلب تک پہنچتے پہنچتے ان کی حالت بگڑ چکی تھی لیکن یہاں پہنچ کر انھوں نے قدرے سکون کا....... (صفحہ 88 ، 89 ، نہیں مل سکا ہے ہاتھ آنے پر اسے بھی شامل کردیا جائے گا فی الحال اگلی قسط میں صفحہ 90 سے سلسلہ کلام جاری کرتے ہیں ، سلسلہ کے منقطع ہونے پر معذرت خواہ ہوں )۔
قسط نمبر تیرہ کے لیے انتظار کریں
ماشاءاللہ واٹس ایپ جیسا لک ہے بلاگ کا
جواب دیںحذف کریں