قسط نمبر چار، ملک شام کی خوفناک خونی داستان از ہبہ الدباغ : صرف پانچ منٹ ،

ایک ہی جملہ بازگشت کی طرح وہراتا رہا:تم اخوان سے ہو اور سب تمھارے بارے میں اعتراف کرتے ہیں کہ تم منتظمہ ہواور تم وطن کو نقصان پہنچانے کے کاموں میں شریک رہی ہو، اس لیے تمھیں کم از کم سزائے موت ملنی چاہیے۔ اس کی باتیں ایک کیسٹ کی طرح مسلسل دہرائی جارہی تھیں ۔ وہ الفاظ کی تبدیلی کے بغیر بات ختم کرتے ہی پھر نقطہ آغاز سے شروع ہو جاتا، بس گالیوں یا استہزائیہ الزامات کے لب و لہجے میں تبدیلی ہوتی۔ میری حالت یہ تھی کہ گویا سر میں زور دار گھنٹیاں بج رہی ہوں اور اس کے بات مکمل کرنے کے بعد بھی اس کی یہ آواز کی گونج سر کو چکراتی رہتی ۔ اس کی باتیں شور بن کر میرے سر میں ہتھوڑے برسانے لگیں: سب نے تمھارے بارے میں اعتراف کیا ہے۔ سب نے تمھارے بارے میں اعتراف کیا ہے کہ تم منتظمہ ہو۔ وطن دشمن ہو۔ سزائے موت سزائے موت سزائے موت . شاید اس کے بعد میں بے ہوش ہوگئی، بس مجھے اتنا یاد ہے کہ ایک اہل کار ملک اور ماجدہ کو لیے ہوئے داخل ہوا اور پوچھنے لگا: لڑکیو تمھیں بھوک نہیں لگی؟ ہم نے کہا نہیں، ہمیں بھوک نہیں۔ وہ بڑے معنی خیز انداز میں بولا، لیکن ہم تمھیں مرغ مسلم تو ہر حال میں کھلائیں گے۔ میں سمجھ گئی کہ اس کا اشارہ تعذیب کی طرف ہے۔ میں نے کہا: ہمیں تمھارے کسی قسم کے کھانوں کی پروا نہیں۔

وہ ہم تینوں کو لے کر اسی زینے سے چڑ ھتا ہوا اس کے مرکزی دروازے کی جانب لے آیا، میرا اضطراب بڑھ گیا میں نے پوچھا:
کہاں لے جارہے ہیں؟ وہ بولا : خود ہی دیکھ لو گی ۔

ہمیں ایک فوجی گاڑی میں آمنے سامنے بٹھا دیا گیا اور دو اہل کار ہمارے پیچھے آ بیٹھے۔گاڑی فراٹے بھرتی ہوئی چلنے لگی۔ ایسا لگتا تھا وہ سامنے سے آنے والی کسی بھی رکاوٹ پر چڑھ دوڑے گی؛ حالانکہ ہمارے آگے ایک گاڑی سیکیورٹی ہارن بجاتی راستہ صاف کروا رہی تھی۔ تیسری گاڑی پیچھے سے ہماری نگرانی کر رہی تھی۔ گاڑی کے اونچے نیچے جھٹکوں سے ملک کا سر چکرانے لگا اور اسے قے آنا شروع ہو گئی اور اس کی بدبو سے ہمارا دم گھٹنے لگا۔ ملک سارا راستہ قے کرتی رہی اور یوں ہم عباسین کی عسکری تحقیقی شاخ سے سجن امن الدولہ کفر السوسہ منتقل ہو گئے۔

جنوری ۱۹۸۱ء ۔ اکتوبر ۱۹۸۲

تینوں گاڑیاں بڑی عمارت کے گیٹ پر پہنچیں اور اس کے خود کار دروازے پر ہمیں اتار دیا گیا۔ یہاں پر ہمیں کچھ اور ہاتھوں نے اپنی تحویل میں لے لیا۔ یہ خوف کی ایک اور دُنیا تھی جس کا ان دونوں میں ہم نے غیر اختیاری طور پر مشاہدہ کیا تھا۔ ظالم ہاتھ ہمیں تاریک زینے پر دائیں بائیں گھماتے ہوئے آگے بڑھنے لگے۔ ہر طرف خاموشی تھی اور اس عمارت سے وحشت ٹپک رہی تھی۔ ایک زور دار آواز نے ہمارے دل دہلا دیے: منیره ! ہم نے آواز کی سمت دیکھا، سامنے سے چوٹیاں باندھے مخصوص جلباب پہنے ایک خاتون نظر آئی۔ وہ ہمارے قریب پہنچی تو قیدیوں کے شفٹ انچارج ابو عادل نے اس سے کہا: آؤ اور ان سب کی الگ الگ تفتیش کرو۔ مجھے سب سے پہلے اس کے ساتھ کمرے میں بھیجا گیا، مجھے بعد میں پتا چلا کہ وہ کمرہ تفتیش و تعذیب ہے۔ منیرہ میرے پیچھے چلی آئی اور پوچھنے لگی:

تمھارا نام کیا ہے؟

میرا اضطراب انتہائی حد تک پہنچ چکا تھا، میں نے کہا: تمھیں میرے نام سے کیا غرض ؟ مجھے ایسا لگ رہا تھا کہ میں غصے میں اسے مار ڈالوں گی ۔ وہ نرمی سے بولی: اتنی درشتی سے کیوں بول رہی ہو؟

میں نے کہا: بخدا میں نہیں جانتی۔ تم مجھ سے کیا چاہتی ہو؟ کیا انسان یہاں آرام محسوس کر سکتا ہے؟ اس نے اس نرمی اور دل نشیں انداز میں کہا: بس غصہ نہ کرو۔ میں بھی تم جیسی قیدی ہی ہوں۔ میں قدرے غصے سے بولی: تم جھوٹ کیوں بول رہی ہو؟ تم شکل ہی سے قیدی نہیں لگتی ۔ وہ بولی: واللہ العظیم میں قیدی ہوں اور سیل اخوانی خواتین سے بھرا ہوا ہے۔ مجھے اس کے لہجے میں سچائی محسوس ہوئی، میں نے بلا خوف اس سے پوچھا: تمھارے ساتھ اور کون کون اخوانی ہیں؟ وہ بولی: ایک حاجہ حلب سے ہے دوسری کا نام اہم شیما ہے اور وہ مجھے سب کے نام بتانے لگی۔ کہنے لگی، میں اکیلی کمیونسٹ ہوں، باقی سب اخوانی ہیں۔

اس نے میری اور پھر ماجدہ اور ملک کی تلاشی لی۔ ایک اہل کار انتظار میں کھڑا تھا، وہ مجھے لے کر او پر کی منزل پر چلا گیا اور مختلف راستوں سے گھماتا ہوا جنوبی شاخ (Section) لے آیا ، تا کہ ضابطے کے مطابق تفتیش شروع کی جاسکے۔

جلادوں کا سامنا

میرے ارد گرد کا ماحول میری گھبراہٹ اور اضطراب بڑھا رہا تھا۔ ایک اندر آتا اور دوسرا باہر چلا جاتا۔ دروازہ بند ہو جاتا اور دوسر انجانے اسے کہاں سے کھول کر آجاتا۔ ہر آنے اور جانے والے وائرلیس اور زنجیر میں اور دوسرے آلات تعذیب تھامے ہوئے ہوتا ۔ سب سے پہلے انھوں نے مجھے ادارے کے سربراہ ناصیف خیر بک کے کمرے میں داخل کیا۔ مجھے ایسا لگا جیسے میں کسی اور دنیا میں داخل ہو گئی ہوں۔ وسیع و عریض کمرے میں عمدہ قالین بچھے تھے اور اس کی ز بر دست زیبائش و آرائش کی گئی تھی۔ یہاں پر سردی کا کچھ احساس نہ رہا۔ کمرے کا فرنیچر اعلی معیار کا تھا۔ حافظ الاسد کا تانبے کا مجسمہ رکھا ہوا تھا۔ افسر اعلی ناصیف وائرلیس پر کسی سے بات کر رہا تھا اور کبھی کبھار آنکھوں کے گوشوں سے مجھ پر بھی نظر ڈال لیتا تھا۔ اس نے اہل کار کو اشارہ کیا کہ اس کے بات مکمل کرنے تک مجھے باہر لے جائے ۔ وہ مجھے اس کے سامنے والے کمرے میں لے آیا۔ وہاں پر ایک شخص زنجیروں سے بندھا ہوا تھا اور کچھ لوگ اسے مار رہے تھے ان سے کچھ اگلوانے کی کوشش میں مصروف تھے۔ ناصیف اپنا وائر لیس تھامے وہیں آگیا، اور کبھی نوجوان کبھی اہل کاروں اور کبھی وائرلیس پر گفتگو میں مصروف رہا۔ اس نے اہل کار کو اشارہ کیا، تو اس نے مجھے کندھے سے پکڑ کر باہر بھیج دیا۔ مجھے نیند آرہی تھی، مجھ میں اتنی سکت نہ تھی کہ ان گالیوں ، مکوں، لاتوں اور چیختی کراہتی اور مدد کے لیے پکارتی آہوں کو برداشت کر سکوں۔ اہل کار نے پھر مجھے اندر بلا لیا، شاید وہ چاہتے تھے کہ میں اس نوجوان کی تعذیب کا خود مشاہدہ کرلوں اور جو کچھ وہ چاہتے ہیں وہ سب انھیں بتا دوں۔ وہ چار یا پانچ اشخاص تھے جو اسے زنجیروں، ڈنڈوں اور لاٹھیوں سے مار رہے تھے اور اسے بجلی کا کرنٹ لگا رہے تھے۔ ان میں ناصیف، عبدالعزیز اور ایک اہل کار جس کا نام مجھے بعد میں معلوم ہوا کہ حسین ہے اس تعذیب میں پیش پیش تھے۔ میں نہ تو اس نوجوان کو جانتی تھی نہ اس کا قصور ۔ لیکن وہ مسلسل کراہ رہا تھا اور ایک ہی جملہ دہرا رہا تھا اللہ العظیم مدد فرمائیے۔ میں نہیں جانتی کہ اس نے ناقابل برداشت تشدد کی بنا پر آخر کار اس نے اعتراف کر لیا۔یا کسی اور سبب سے ۔ اس نے اقرار کیا کہ اس نے ایک سپاہی کو قتل کیا ہے۔ اور جس وقت اس پر بے تحاشا تعذیب ہو رہی تھی اور اس کی چیخیں عمارت کو لرزا رہی تھیں، میں نے اس اہل کار سے پوچھا: تم مجھے کیوں یہاں لائے ہو ؟ وہ تمسخرانہ انداز میں بولا : معلوم نہیں۔ ان ہی سے پوچھ لو۔ میں ان سے نہیں پوچھ سکتی ، مگر میرے پاس اعتراف کرنے کو کچھ نہیں۔ وہ تقریباً آدھا گھنٹہ اسے مارتے رہے۔ پھر جب اسے اٹھایا تو وہ زخموں سے چور تھا۔ انھوں نے اس کے ہاتھ پاؤں اتنی سختی سے باندھے کہ وہ بلبلا اٹھا۔ اسے سیل میں بھجوا کر ایک اہل کار نے میری طرف اشارہ کیا، مجھے اس کی جگہ کھڑا کر دیا گیا۔ سب اچانک باہر نکل گئے اور برقی دروازہ بند ہو گیا اور وہ مقام بالکل دیوار کا حصہ بن گیا، لیکن چند ثانیے بعد وہ نہ جانے کہاں سے داخل ہو گئے۔ مجھ سے بلا کوئی سوال کیے یا کچھ بولے اچانک ایک نے میرے منہ پر پوری طاقت سے طمانچہ رسید کیا۔ میرا سر زور سے دیوار سے ٹکرایا، مجھے پوری دنیا گھومتی ہوئی نظر آئی، اچانک میری ان سب پر نظر پڑی ۔ مجھے اندازہ ہوا کہ میرا سر نیچے اور ٹانگیں او پر ہیں۔ ایک شخص کرختگی سے بولا: سنو۔ تمھیں سب کچھ سچ سچ بتاتا ہوگا۔

ہوا کی بساط

اچانک رائد علیجہ باہر گیا اور ناصیف اور آپریشنل ہیڈ کو لے آیا۔ یہ وہی شخص تھا جو مجھے ہاسٹل سے یہاں لایا تھا۔ ناصیف بولا :تیرا ناس ہو۔ تم سچ سچ بتاؤ گی؟ تمھیں اقرار کرنا ہوگا، بتاؤ تمھارا بھائی کہاں ہے؟ میں نے کہا: میرا بھائی یہاں نہیں۔ بولا پھر وہ کہاں ہے؟
میں نے کہا: مجھے نہیں معلوم، بظاہر وہ تعلیم مکمل کرنے گیا ہے۔ اور حقیقت بھی یہی تھی کہ امی جب صفوان سے ملنے اردن گئی تھیں تو اس نے ان سے کہا تھا۔
وہ تکمیل تعلیم کے لیے پاکستان جا رہا ہے۔ اس وقت تک مجھے معلوم نہ تھا کہ میری امی کو بھی اسی عقوبت خانے میں لایا گیا ہے اور چند ثانیے پہلے وہ ان سے بھی یہی سوال کر چکے ہیں اور ان کا بھی یہی جواب تھا اور ہمارے بیان کی اس مطابقت نے ہی مجھے اس وقت تعذیب سے بچا لیا تھا۔ وہ درشت لہجے میں بولا : تم جانتی ہو کہ تمھارا بھائی یہیں ہے اور ہم اسے ضرور پکڑ کر تمھارے سامنے لے آئیں گے یا اس کے کسی ساتھی کو اس گھر کا سراغ بھی لگالیں گے جہاں وہ چھپا ہو گا۔ میں نے کہا: میں اس کے بارے میں نہیں جانتی۔
اس نے کسی کو پکار کر کہا، اسے لے جاؤ اور لٹکا دو۔ ایک اہل کار نے مجھے لکڑی کے تختے پر لٹا کر میری گردن، کلائیاں، پیٹ، گھٹنے اور پاؤں اس سے باندھ دیے، اور مجھے الٹالٹکا دیا، میرے پاؤں فضا میں تھے اور ان سے کپڑا ہٹ چکا تھا۔ صرف جرابیں ان کو ڈھانپ رہی تھیں، میں اپنے جسم کو حرکت نہ دے سکتی تھی۔ اہل کار پوری قوت اور غضب سے چلایا:

سر دیکھیے ۔ آپ نے نوٹ کیا؟ یہ کہتی ہے یہ اخوانی نہیں لیکن اس نے اپنے آپ کو مکمل ڈھانپ رکھا ہے ان ہی کی طرح ۔ اس حال میں بھی اس کا ستر قائم ہے۔انھوں نے ٹکٹکی کو چھت سے لٹکی زنجیر کے ساتھ ٹانگ دیا۔ آپریشن ہیڈ ایک لمبا ڈنڈا پکڑے ہوئے آگے بڑھا اور اسے بلند کر کے دھمکاتے ہوئے بولا: تمھیں سب کچھ بتانا پڑے گا۔ میں نے کہا: میرے پاس بتانے کو کچھ نہیں۔ رائد ثلجہ میرے سر کی جانب آیا ، اس کے ہاتھ میں مربع شکل بجلی کا بورڈ اور پلگ تھا، اور ایک چیز تھی جس پر کلپ لگے ہوئے تھے ، اس نے کلپ میری ہاتھ کی انگلی کے ساتھ لگا کر اس میں کرنٹ چھوڑ دیا اور ڈنڈے سے میرے پاؤں کے درمیان میں ضرب لگائی ۔ ایسا لگا جیسے میرے پورے بدن میں آگ لگ گئی ہو۔ وہ میری چیخوں کو خاطر میں لائے بنا بولا : ہوں تمھیں بکواس کرنی پڑے گی ؟
میں چلائی: میں کہہ چکی ہوں میرے پاس اعتراف کرنے کو کچھ نہیں۔ وہ سرد مہری سے بولا: تم نے دیکھا نہیں کہ بجلی کی طاقت کیا ہوتی ہے؟ یہ ہمارے پاس : سب سے ہلکا ٹارچر شمار ہوتا ہے۔ میں نے کہا: اگر ایسا ہی ہو تو بھی کیا، میں ان چیزوں کا اعتراف کرلوں جو میں نے نہیں کیں۔ اس پر وہ بولا : نہیں۔ تم جھوٹ کہہ رہی ہو اور ہم سے چھپا رہی ہو۔ تمھیں ابھی ہمارے ساتھ جانا ہوگا اور اس گھر کی نشان دہی کرنی ہوگی جہاں تمھارا بھائی اور اس کے ساتھی رہتے ہیں، ور نہ ہم تمھیں ہلاکت تک پہنچادیں گے۔ ثلجہ ایک تصویر میرے منہ کے قریب لا کر پوچھنے لگا: تم اس نوجوان کو پہچانتی ہو؟ میں نے کہا نہیں۔ بولا: کیسے؟ کیا تم اپنے بھائی کے دوستوں کو نہیں پہچانتی ؟ میں نے کہا: نہیں۔ بولا لیکن یہ تمھارے بھائی کا جگری دوست ہے۔ یہ عبد الکریم رجب ہے۔ تم نہیں جانتی ؟ میں نے اعتماد سے کہا: نہیں، بالکل نہیں۔ رائد ثلجہ نے مجھ پر لگائے گئے الزامات بآواز بلند دوبارہ پڑھنے شروع کیے: ہبہ الدباغ۔ میں زور سے چلائی: یہ جھوٹ کا پلندہ ہے۔ میرے انکار کے بعد تعذیب کا سلسلہ دوبارہ شروع ہو گیا ۔ آپریشنل ہینڈ پوری قوت سے میرے پاؤں پر کوڑے برسانے لگا۔ پاؤں پر ضرب پڑنے سے پہلے ہی اس کی سنسناہٹ سنائی دیتی ۔ ایک اور اہل کار اپنے ہیڈ کے ساتھ تعذیب دینے میں شریک ہو گیا اور عبد العزیز میرے سر کی جانب کھڑا ہو کر میری انگلیوں پر نئے سرے سے کرنٹ لگانے لگا۔ اتنی شدید تکلیف ہوئی کہ اس کو الفاظ میں بیان نہیں کر سکتی۔ شروع میں چیختی رہی اور میری زبان پر یا اللہ کا کلمہ جاری رہا لیکن کچھ دیر بعد آواز نکالنا بھی میرے بس میں نہ رہا۔ میں سر پٹختی رہی اور مجھے کسی بھی چیز کا احساس نہ رہا۔ دس منٹ مسلسل تعذیب کے بعد وہ اچانک رک جاتے اور گالی گلوچ اور توہین آمیز کلمات کے بعد یہ کہہ کر دوبارہ شروع ہو جاتے: چلو جاؤ موت کے منہ میں۔ کچھ دیر بعد انھوں نے میری رسیاں کھول دیں اور ایک اہل کار مجھے دھکیلتا ہوا مختلف راستوں اور زمینوں سے اترتا ہوا بیرونی دروازے کے پاس کھڑی گاڑی کی جانب آیا، اچانک ہی ایک اور اہل کار ماجدہ کو گھسیٹتا ہوا لے آیا۔ انھوں نے ہم دونوں کو اس میں سوار کرا دیا، ہم میں اتنی ہمت نہ تھی کہ ایک دوسرے کا حال ہی پوچھ لیتے ۔ گاڑی بڑی تیزی سے باہر کی جانب لپکی ، ایک اہل کار پوچھنے لگا سچ سچ بتاؤ گی؟مجھے ایسا لگا کہ میرا رواں رواں چیخ کر کہہ رہا ہے: میرے پاس بتانے کو کچھ نہیں۔ میرا کسی سے کوئی تعلق نہیں ۔ کیا تم مجھ سے جھوٹ کہلوانا چاہتے ہو؟ کیا تم یہی چاہتے ہو۔ گاڑی رک گئی، ڈرائیور ہمیں عمارت کی جانب لے کر نہ گیا بلکہ دوبارہ عقوبت خانے میں لے آیا اور وہی سوالات ، الزامات اور تہمتیں دہرائی جانے لگیں، لیکن اس مرتبہ تعذیب اور تشدد

5 تبصرے

آپ اپنی رائے ضرور لکھیں

جدید تر اس سے پرانی