قسط نمبر بائیس ، ملک شام ، صرف پانچ منٹ


اور واقعی کئی دن گزر گئے۔ اس سے دوبارہ کسی نے اس موضوع پر بات کی نہ ہی ابو فارس نے رابطہ کیا۔ اسے بھی پتہ چل گیا کہ یہ محض ایک گھٹیا کھیل تھا اور ہم سب کو یقین ہو گیا کہ یہ لوگ وحشی جانوروں سے بھی بڑھ کر سنگ دل ہیں اور ان کی حقیقی صورت گری کرنا انسان کے بس میں نہیں۔ آٹھ مہینے بعد جب کہ مصائب بڑھ گئے تھے اور بلاک میں اتنی خواتین آگئی تھیں کہ سانس لینا تک دشوار ہو گیا تھا، رات کو سونے کے لیے لیٹنے تو کندھے سے کندھا جڑا ہوتا۔ ہماری بار بار کی درخواستوں کے بعد ہمیں ہوا خوری کے لیے دس منٹ سے آدھے گھنٹے تک باہر صحن میں نکالا جانے لگا۔ ہر چند اس مقصد کے لیے جیل کی جنوبی سمت میں خاص طور پر صحن بنا ہوا تھا، جو سطح زمین سے چار پانچ سیڑھیاں نیچے تھا، تین یا چار اہل کار اپنی نگرانی میں ہمیں لے نیچے جاتے۔ اگر ہم اوپر دیکھتے تو سیمنٹ کی بلند و بالا دیواروں سے اوپر مختصر سا آسمان نظر آتا۔ جلدی ہی ہمیں معلوم ہو گیا کہ ہمارے بعد اسی صحن میں ہوا خوری کے لیے نوجوان قیدیوں کو بھی لایا جاتا ہے۔ یوں ہمارا ان سے ایک بلا واسطہ رابطہ ہو گیا۔ خاص طور پر جب الحاجہ ریاض نے ایک دیوار پر اپنے بھائی کے دستخط دیکھے تو انھیں معلوم ہو گیا کہ وہ بھی اسی جیل میں قید ہے۔ اسی طرح وہ دیواروں پر بعض اشارات لکھ دیتے ۔ یہ جاننے کے لیے ہماری جانب کون کون ہے، یا وہ پوچھتے: فلاں یہاں ہے؟ اور ہم اپنے علم کے مطابق جواب دے دیتے۔ ایک مرتبہ الحاجہ نے اپنے بھائی کے بارے میں پوچھا، تو انھوں نے لکھ دیا: نہیں۔ تو ہمیں معلوم ہو گیا کہ شاید اسے مار دیا گیا ہے۔ اسی طرح میں نے ان سے خالد محمود شیخ کے بارے میں پوچھا جس کے بارے میں وہ مجھ سے تفتیش کے دوران سوال کر رہے تھے۔ وہ میرے بھائی صفوان کے دوستوں میں سے تھا، تو انھوں نے لکھ دیا: نہیں۔ اس کے ساتھ ہی کھوپڑی اور ہڈیوں کا نشان بھی بنا ہوا تھا، میں جان گئی کہ اسے شہید کر دیا گیا ہے۔ ایک روز جب ہم وقت مقررہ میں چہل قدمی کر رہے تھے ہمیں نوجوانوں کے حمام سے ایک ہاتھ بار بار اٹھتا ہوا نظر آیا، جو ہلکا سا سر اور ہاتھ اٹھا کر پھر نیچے ہو جاتا۔ ہمیں معلوم ہوا کہ وہ نوجوانوں کے حمام کی کھڑکیاں ہیں۔ شاید کوئی نوجوان ہمیں متوجہ کرنا چاہ رہا تھا کہ وہ ہم سے کوئی بات کرے لیکن عین وقت پر اہل کار اس جانب آگیا۔ اس کے بعد ہمیں جب بھی یہ احساس ہوتا ہم میں سے ایک لڑکی اہل کار کو باتوں میں لگا لیتی اور دوسری نوجوان کی بات سن لیتی تھی۔ ابتدائی رابطے میں تو محض اپنے اہل محلہ اور اقارب کے بارے  تبادلہ معلومات ہوتا کہ کس کا کون کون عورتوں یا مردوں کی جیل میں ہے۔ ایک روز اچانک انھوں نے اہل کاروں کی نظر بچا کر ہماری جانب سوولیرہ پھینک دیے، ایک طالبہ نے اٹھا کر بلاک کے اجتماعی فٹ میں رکھ لیے۔ دوبارہ انھوں نے دو سوولیرہ دے دیے، لیکن تیسری مرتبہ عین وقت پر بھانڈا پھوٹ گیا اور ان مظلوم نوجوانوں پر قیامت ٹوٹ پڑی۔ اور پورے جنوبی حصے کو اہانت اور تذلیل کا وافر حصہ ملا، اس کے بعد کبھی انھوں نے اس کی جسارت نہ کی۔ یہ حادثہ اپنی تمام تلخی کے باوجود نوجوانوں کے رابطے کا مکمل خاتمہ نہ کر سکا، کیونکہ یہ ایک نئے مرحلے کی ابتدا تھی۔ ہماری زندگی کا تمام جھکاؤ اسی جانب تھا۔ ایک روز جب ہم ہوا خوری کے بعد واپس لوٹ رہے تھے، ہم نے دو بچے دیکھے جو اچھے لباس میں تھے اور خوش حالی اور توگری کے تاثرات کے چہروں سے نمایاں تھا۔ ایک اہل کار سے معلوم ہوا کہ یہ افسر ناصیف کے بچے ہیں، جو شوق میں انھیں یہاں لے آیا ہے، ہم ان کے قریب پہنچے تو بھائی بہن سے کہنے لگے: آؤ۔ آجا قیدی خواتین آ رہی ہیں۔ انھیں دیکھتے ہی ام محمود حلیمہ کو اپنے بچے یاد آگئے اور انھوں نے بے اختیار انھیں اپنے ساتھ لپٹا لیا۔ وہ اسے اٹھانے لگیں تو بچہ ڈر کر بھاگ گیا۔ جب ہم بلاک واپس آئے تو وہ پھوٹ پھوٹ کر رو رہی تھیں اور اس کے ساتھ ہی بلاک کی باقی مائیں بھی۔ ان کی آہ و بکا بڑھ گئی اور بلاک میں کوئی آنکھ خشک نہ رہی۔ ہم سب ان کے غم میں شریک تھے۔ اسی حال میں ہمیں سال ہونے کو آیا تھا اور ایک ہی سوال بار بار ہمارے سر میں، ہتھوڑے برسا رہا تھا: آخر کب تک؟ اور ہم اسی نتیجے پر پہنچے کہ ہمیں ایک اور ہڑتال کرنا ہوگی، تاکہ ہم اپنے مطالبات منگوائیں اور کسی حل تک پہنچیں۔ اس وقت عشاء کا وقت تھا جب ہم نے اپنا سارا جمع شدہ کھانا جو مختلف اوقات میں بچا کر رکھا تھا نوجوانوں کے ذریعے خفیہ طور پر ہمیں پہنچایا، ہم نے اسے باہم تقسیم اور کھا لیا اور ہم نے ہڑتال کے عزم پر باقاعدہ معاہدہ کر لیا۔ جیل میں کھانا تقسیم ہونے آیا تو ہم میں سے کوئی بھی اسے لینے طاق کی جانب نہ بڑھا، اہل کار نے حیرت سے پوچھا: تم لوگ جواب کیوں نہیں دے رہی؟ الحاجہ مدیحہ کہنے لگی: ہم کچھ کھانا پینا نہیں چاہتے۔ وہ حیرت سے عجیب لہجے میں بولا، اف خیر۔ خیر۔ ذرا پھر سوچ لو۔ وہ بولیں: ہمیں نہیں چاہیے ۔ اپنا کھانا لے جاؤ۔ ہمیں تم سے کچھ نہیں چاہیے۔ اور طاق بند ہو گیا ۔ اہل کار نے جا کر ابو عادل کو بتایا، وہ فوراً ہی بھاگتا آیا اور تیزی سے طاق کھول کر بولا: کیا ہوا ہے....... خیر ہے؟ سب خاموش رہے، فقط الحاجہ بولیں: کچھ نہیں۔ اس نے پھر پوچھا: تم لوگوں نے کھانا کیوں نہیں لیا؟ اس نے اہل کار کو دروازہ کھولنے اور کھانا اندر رکھنے کو کہا، جب وہ رکھ چکا تو بڑی سرد مہری سے بولا: سنو کھانا کھاؤ اور اپنے نفس پر ظلم نہ کرو۔ پھر وہ چلا گیا۔ آدھے گھنٹے بعد دوبارہ اس نے طاق کھول کر دیکھا، کھانا جوں کا توں رکھا تھا۔ ابو عادل کھانا دیکھ کر غضبناک ہو گیا، اس نے اہل کار کو اشارہ کیا کہ وہ کھانا اٹھا لے جائے، جاتے ہوئے فقط اتنا کہا: تم نہ کھانے میں آزاد ہو! اگلے روز وہ ناشتہ لائے تو ہم نے اسے بھی ہاتھ نہ لگایا، دوپہر کا کھانا بھی یوں ہی پڑا رہا۔ سارا دن اہل کار آ کر ہمیں قائل کرتے رہے: یہ بصیرت نہیں۔ تم محض اپنے آپ کو تکلیف دے رہے ہو، تمھیں اس کا کوئی فائدہ نہ ہوگا۔ ہماری ہڑتال تروانے والے کو اس کا معاوضہ بھی ملتا تھا، اسی لیے قسم جنوبی کا سربراہ ابو شادی بھی ہمیں قائل کرنے آیا۔ اس نے بڑے عمدہ انداز میں بات کا آغاز کیا، نرمی کا لبادہ اوڑھ کر۔ ہم نے بڑی صراحت سے کہہ دیا: یا تو ہمارے گھر والوں کو ہم سے ملاقات کی اجازت دی جائے یا ہمیں یہاں سے نکال کر پھانسی دے دی جائے وہ خوشامدانہ انداز میں کہنے لگے۔ یقین رکھو اگر آپ کے گھر والے یہاں آئے تو ہم انھیں بے مراد واپس نہیں لوٹائیں گے، لیکن ان لوگوں نے تو مڑ کر تمھارے بارے میں پوچھا تک نہیں۔ ہم سب غصے سے بل کھا کر رہ گئے، لیکن ماجدہ بول اٹھی: کیونکہ ہمارے گھر والے یہاں آنے سے خوف زدہ ہیں۔ اس شاخ کا نام ہی ہول کھانے کے لیے کافی ہے۔ لیکن یہ گفتگو کسی نتیجے پر نہ پہنچ سکی اور اسی حال میں دوسرا دن بھی گزر گیا اور جب تیسرا دن چڑھا ان کے رویے بدلنے لگے اور معاملہ شدت اختیار کر گیا ۔ رئیس نوبہ ابو رای اور بڑی سختی سے بولا: آ جاؤ۔ سب ہڑتالی باہر آ جاؤ۔ اور اس نے اپنی نگرانی میں تمام مارکسی، مسیحی، حركہ بعث عراق کی قیدیوں سمیت سب کو باہر نکال لیا۔ پھر وہ حیرت اور غضب سے طلے لہجے میں کہنے لگا: واللہ کیا خوبصورت منظر ہے۔ ایشیائی و افریقی عاملین متحد کھڑے ہیں۔ وہ ہمیں ہا تک کر کمرے پر تفتیش میں لے گیا، دو اہل کار بلاک میں ہمارے سامان کی تلاشی لینے آگئے اور انھوں نے ہر ممکنہ چیز چھان ماری، ہمارے سامان میں انھیں کچھ خوراک کے سربمہر ڈبے مل گئے، جو نوجوانوں نے ہمیں بھجوائے تھے، انھوں نے نیروہ کے ذریعے تمام پیکٹ کھلوا کر اپنی نگرانی میں کوڑا دان میں پھینک دیے۔ جب کہ ایک اہل کار ہم سے بات کرنے لگا اور ہم سے ہمارے مطالبات پوچھنے لگا، ہم نے قطعی انداز میں کہا: آپ بہت اچھی طرح جانتے ہیں کہ ہم کیا چاہتے ہیں اور ہمارے مطالبات کیا ہیں اور ہم مزید بات نہیں کریں گے۔ اور بلاک کی تلاشی کے بعد وہ ہمیں واپس لے آئے۔ سزا کے طور پر انھوں نے ہمارا پانی بھی کاٹ ڈالا، ہماری حالت ایسی تھی کہ بھوک اور پیاس کی شدت ہمیں اندر سے کسی تیز چھری کی مانند کاٹ رہی تھی۔ حقیقت یہ تھی کہ ہڑتال کے دوسرے روز ہی میری طاقت جواب دے گئی تھی اور اندر کے زخموں کے سبب مجھے اجابت میں خون آنا شروع ہو گیا تھا۔ میں اور ماجدہ نے سلاخوں کے پیچھے سے ایک بیچنے والے سے کچھ انڈے خرید لیے تھے۔ وہ اسے بلاک میں لے آئی اور اللہ نے

جاری...

ایک تبصرہ شائع کریں

آپ اپنی رائے ضرور لکھیں

جدید تر اس سے پرانی