نجانے کیوں، ماجدہ نے گلاب کے پھول جیسے ٹاپس پہن رکھے تھے، ان میں ایک سرخ نگینہ جڑا تھا۔ ہالہ اسے بھی پتھرائی نظروں سے دیکھتی اور اس کے چہرے پر خوف کے سائے پھیلتے رہتے۔ ہم نے گینز رکی سرخ بتی کو موٹے کاغذ سے کور کر دیا اور ماجدہ نے بھی اپنے ٹاپس اتار کر چھپا دیے۔ ڈاکٹر عائشہ اپنی عینک اتار کر رکھتی تو وہ بڑی دیر تک اسے دیکھتی رہتی اور اس میں اپنا چہرہ دیکھتی مختلف زاویوں سے دیکھتے ہوئے اس کا دل کبھی نہ بھرتا۔ ایک روز اچانک ہی وہ کہنے لگی کہ اسے پیاس لگی ہے۔ ہم نے حمام کی ٹونٹی سے پانی کا گلاس بھر کر اسے دیا جہاں سے ہم سب پیتے تھے، اس نے ایک نظر ہماری طرف دیکھا اور بولی: کیا کوئی شخص پیشاب بھی پی سکتا ہے؟ الحاجہ مدیحہ نے اس سے کہا: اچھا۔ میں تمھارے لیے جیل کے سب سے عمدہ گلاس میں پانی منگواتی ہوں۔ انھوں نے دروازہ بجا کر ابو عادل کو بلایا اور اس سے درخواست کی: ہمیں ہالہ صاحبہ کے لیے پانی چاہیے۔ انھیں پیاس لگی ہے۔ وہ حیرت سے بولا: کیا آپ کے پاس پانی ختم ہو گیا ہے؟ وہ بولیں: ہمارے پاس جو پانی ہے وہ ہالہ نہیں پی سکتیں۔ وہ گیا اور ایک گلاس پانی لے آیا، اس نے ایک نظر ہم سب پر ڈالی پھر ایک نگاہ پانی پر ڈالی اور بولی: یہ گندا ہے۔ اور اس میں تھوک دیا۔ الحاجہ نے اس کے لیے دوسرا منگوایا تو اس نے اس میں بھی تھوک دیا اور کچھ دیر بعد ہالہ کے سامنے سات گلاس رکھے تھے اور وہ سب میں تھوک چکی تھی اور اس نے ایک قطرہ پانی بھی نہ پیا تھا۔ ایک روز ہم مزے سے بیٹھے باتیں کر رہے تھے، ہم نے ایک کھیل شروع کیا کہ ہم سب فلسطینی مہاجر ہیں اور ویڈیو کے ذریعے گھر والوں کو پیغامات بھیج رہے ہیں اور یوں ہر ایک اپنے احساسات بیان کر رہی تھی۔ الحاجہ ریاض کہنے لگیں: میں اپنی امی کو سلام کہتی ہوں۔ او میری ماں۔ آپ میرے بنا کیسے رہتی ہیں۔ مجھے معلوم ہے کہ مجھ بن آپ کے آنسو کیسے بہتے ہوں گے۔ اور وہ خود بھی پھوٹ پھوٹ کر رونے لگیں۔ انھیں دیکھ کر باقی خواتین بھی اپنے جذبات پر قابو نہ رکھ سکیں۔ ہم نے ہالہ سے پوچھا: ہالہ۔ تم بھی ہمارے ساتھ پروگرام میں شامل ہوگی؟ اُم شیما بولیں: آؤ ہالہ۔ آج ہمیں کوئی گیت تو سناؤ۔ وہ مترنم آواز میں ’’تو حیدر ربی‘‘ گانے لگی اور پورا قصیدہ گا ہی دم لیا۔ داروغہ بھاگتا ہوا آیا اور استفسار کرنے لگا: یہ کیا ہے؟ کیا میلاد النبی کا پروگرام ہو رہا ہے؟ الحاجہ کہنے لگیں: ہمیں ہمارے حال پر چھوڑ دو۔ طاق بند کرو اور ادھر کوئی نہ آئے۔ اس روز ہم سب اس قدر خوش تھے کہ جیسے کسی کے ہاں پہلوٹھی کا بچہ ہوا ہو اور ہم خوش بھی کیوں نہ ہوتے، ہمارا رواں رواں رواں اللہ کی حمد پکار رہا تھا ۔ آخر کار خاموشی کا قفل ٹوٹ گیا تھا اور ہالہ بول پڑی تھی۔ دن یوں ہی گزرتے رہے۔ ہالہ کی حالت بہتر ہونے لگی اور تقریباً آٹھ ماہ میں وہ ایک نارمل انسان کی مانند ہوگئی۔ ہم نے اس سے اس کی حالت کے بارے میں سوال کیا تو اس نے بتایا کہ اسے لاذقیہ سے دمشق لائے جانے کے بارے میں کچھ معلوم نہیں اور نہ ہی اسے معلوم تھا کہ وہ کیوں کر ہوش و خرد سے بیگانہ ہوگئی تھی۔ بعد میں ہمیں اس کے صدبے کا سبب کچھ یوں معلوم ہوا: ہالہ کا تعلق ایک دین دار گھرانے سے تھا، وہ ’’کلیۃ العلوم لاذقیہ‘‘ کی طالبہ تھی، اس کا ماموں زاد بھائی (جو میستر کا طب علم تھا) پڑھائی میں اس سے مدد حاصل کیا کرتا، خاص طور پر اس کے پسندیدہ مضمون ریاضی میں۔ حکومت نے پکڑ دھکڑ شروع کی تو ان کے گروپ کا ایک لڑکا پکڑا گیا اور اس کی نشان دہی پر سارے دوستوں کو دھر لیا گیا۔ تفتیش کرنے دوران تفتیش اس سے پوچھا کہ تمھیں کون سکھاتا پڑھاتا ہے؟ ان کے سوال کا مقصد اس تنظیمی گروپ کے بارے میں تھا، لیکن لڑکے نے سادگی سے دوران تفتیش ہالہ کا نام لے لیا، کیوں کہ وہی اسے ریاضی اور فرنسکس پڑھاتی تھی۔ وہ اسے پکڑ لائے اور اس کے ہاتھ پاؤں بیڑیوں میں جکڑ دیے اور مار پیٹ کے دوران اس کے کپڑے پھاڑ ڈالی۔ جیل کے افسر اور اس کے تین اہل کاروں نے اس پر بہیمانہ تشدد کیا اور اجتماعی زیادتی کی کوشش کی۔ پھر اسے گودا جماتی ٹھنڈک میں قید تنہائی میں ڈال دیا ۔ جہاں وہ نجانے کتنی دیر ٹھٹھرتی کانپتی پڑی رہی۔ اس پر ہیبت فضا میں اہل کاروں کی بار بار کی آمد و رفت اس کا سانس سکھائے رکھتی۔ اس کی عزت کے دشمن جنھوں نے کس بیدردی سے اس کے شرف کو نشانہ بنایا تھا۔ وہ اس کثرت سے تفتیش کے نام پر لائیں حاضر رکھتے اور وہ سوکھے پتے کی مانند لرزتی رہتی کہ وہ کسی لمحے اس کو زیادتی کا نشانہ بنا سکتے تھے۔ ان ہی بھیڑیوں کے غول کے درمیان ایک روز جب وہ تفتیش میں اپنی باری کی منتظر تھی، اچانک اسے ایک نوکیلا کانچ یا فولاد کا ٹکڑا نظر آیا۔ اسے ایسے لگا جیسے یہی اس کی نجات کی راہ ہے۔ اس نے چپکے سے اسے اٹھایا اور تیزی سے اپنی شریان کاٹ ڈالی، تا کہ اس الم ناک داستان کا خاتمہ ہو جائے۔ سرخ سرخ گرم گرم ہوا بیل ابل کر اسے لمحہ بہ لمحہ موت کے قریب لے جاتا رہا۔ اہل کار شاید ہی غافل تھے۔ جب اس کی باری آئی، تو وہ اگلے سفر کی تیاریوں میں تھی۔ انھوں نے اسے فوری طبی امداد پہنچائی اور دمشق منتقل کر دیا۔ راستے میں وہ بے ہوشی میں ہی چلانے لگی، اسے لگا کہ گاڑی میں اس کا ماموں زاد اور اس کے دوست بھی بیٹھے ہیں اور اہل کار ان سب کو پھانسی گھاٹ کی جانب لے جا رہے ہیں، اتنے شدید صدمہ پہنچا کہ اس کی قوت گویا سلب ہوگئی اور وہ اپنے اردگرد سے بالکل لاعتعلق ہوگئی، اہل کاروں نے اسے اس کا ڈرامہ قرار دیا اور ایک ماہ اسے قید تنہائی میں رکھنے اور تغذیہ دینے کے بعد بھی جب اس کی حالت میں تبدیلی نہ آئی تو اسے ہمارے پاس بلاک میں بھیج دیا حالات بد سے بدتر ہوتے چلے گئے اور ہمارا بلاک جس میں پہلے ہی گنجائش نہ تھی، نئے آنے والوں سے ٹھنستا چلا گیا۔ ام محمود حلیمہ الحاجہ ریاض کے بعد آئی تھیں۔ وہ ۳۵ برس کی ایک دیہاتی خاتون تھیں۔ حلب کے قرب میں رہتی تھیں، ان کا شوہر تربی گاؤں میں کام کرتا تھا۔ یہ بہت پاکیزہ خیال اور سلجھی ہوئی خاتون تھیں، انھوں نے اپنے گھر میں ان نوجوانوں کو چھپا رکھا تھا جنھیں حکومت تلاش کر رہی تھی۔ خفیہ والوں نے چھاپا مارا تو ام محمود کے شوہر کو بھی پکڑ لیا، لیکن وہ پھر بھی القاعدہ کے ٹھکانے کا پتا نہ لگا سکے ۔ یوں وہ ام محمود کے گھر میں ڈیر و ڈال کر بیٹھ گئے جبکہ ان کے بچے بھی وہاں موجود تھے۔ محاصرے کی شدت سے سنگ آکر نوجوان باہر نکلے اور خفیہ والوں سے دو بدو مقابلہ کیا اور ان سب کو قتل کر کے فرار ہو گئے ۔ اس مسکین خاتون کے پاس اس کے سوا چارہ نہ رہا کہ وہاں سے بھاگ جائے۔ سودہ اپنے بچے لے کر آدھی رات کو ساتھ والی بستی میں چلی گئی۔ اس کے پاس اس کے سوا چارہ بھی نہ تھا۔ خفیہ والوں کو اس رسوائی کی خبر ہوئی، تو وہ ان کی بوسونگھتے وہاں بھی پہنچ گئے اور انھیں ان کے بچوں سمیت القاعدہ کی مدد اور اہل کاروں کے قتل میں معاونت کے جرم میں گرفتار کر لیا۔ انھیں حلب میں امن سیاسی کے تفتیشی دفتر میں لے گئے۔ ان پر قدر تشدد کیا کہ ایک ہاتھ توڑ دیا اور اب تک وہ اسے طبعی انداز میں حرکت نہ دے سکتیں، انھوں نے ان کی ناک کی ہڈی بھی توڑ ڈالی۔ تین ماہ کی تغذیب کے بعد وہ انھیں کفر السوسہ لے آئے اور نئے سرے سے تغذیب کی بھٹی میں پگھلانے لگے۔ انھوں نے اپنے شوہر کے کام سے لاعلمی کا اظہار کیا۔ گمان غالب یہی ہے کہ ان کے شوہر کو عدم کی راہ دکھائی گئی تھی۔ وہ اپنے پانچ بچوں جن کی عمریں چار سے نو برس کے درمیان تھیں اور بوڑھے والدین کے ہمراہ مصائب برداشت کرنے کو تنہا رہ گئی تھیں، یہ احساس انھیں بہت تکلیف دیتا اور وہ بڑی رقت سے کہتیں: اولاد کی محبت میں میرا سینہ جل رہا ہے۔ وہ باقی عورتوں کی طرح روتی نہ تھیں، بس ان کی آنکھیں بہتی رہتی تھیں۔ ام محمود ۱۹۸۴ء میں قطنا کی جیل سے رہا ہوئیں ۔ ایک روز بلاک میں اسرائیل کے حق میں جاسوسی کے الزام میں دو عیسائی بہنوں کو لایا گیا۔ چھوٹی کا نام جوریٹھ تھا جسے وہ کبھی مار پیٹ کہہ کر بلاتے، یہ لگ بھگ پینتیس برس کی، اس کا شوہر اقرارح کا علوی تھا، اس کا نام زہیر تھا اور وہ اپنے نیٹ ورک کا سر براہ تھا۔ بڑی بہن ام جورج سائیڈ کی دہائی میں تھی، اس کا شوہر بھی علوی تھا اور محکمہ پولیس میں اسسٹنٹ تھا۔ اس کے باوجود کہ انھوں نے ہمارے ساتھ طویل قید کٹی، ہمیں ان کے حالات کا صحیح علم نہ ہوسکا، کیونکہ وہ کبھی کھل کر اپنے بارے میں بات نہ کرتے۔ ہمیں بعض دوسرے ذرائع سے اس کے سوا کچھ نہ پتہ چلا کہ یہ دونوں اور مار پیٹ کا شوہر اکٹھے ہی پکڑے گئے اور اس کے بعد بڑی تعداد میں ان کے نیٹ ورک کے افراد پکڑ لیے گئے۔ شروع میں وہ ہر روز ہی مار پیٹ کی تفتیش کے لیے جاتے اور سارا دن فرع کے در و دیوار اس کی دردناک چیخوں سے لرزتے رہتے اور جب وہ واپس آتی تو ایسے لگتا کہ اس کے آخری سانس چل رہے ہوں، ڈاکٹر عائشہ فوراً ہی اس کی
جاری ...
