نگہداشت کے لیے اٹھ کھڑی ہوتیں۔ وہ اس کے نیلے پیروں کو نیم گرم پانی سے دھوتیں، اس کے زخم صاف کرتیں اور لڑکیوں کے دو پٹے پھاڑ کر اس کی پنڈیاں کرتیں اور پوری جان فشانی سے اس کے جسم کا "مساج" کرتیں اور جوں ہی اس کی تکلیف میں کچھ کمی ہوتی، وہ چھلاوے کی طرح بھاگ کھڑی ہوتی اور دوسری مارکسی لڑکیوں کے ساتھ تاش کھیلنے لگتی تھی۔ اس طرح مستغرق ہو کر تاش کے پتے پھینکتی گویا اسے کچھ ہوا ہی نہ ہو۔ ایک بار الحاجه مدیحہ اسے کہنے لگیں: تھوڑی دیر پہلے کس طرح تم چیخ چیخ کر ہلکان ہورہی تھی اور اب کھیل میں مگن ہو؟
وہ بولی: میں دونوں جانب مگن ہو کر فائدے میں رہتی ہوں۔ شروع میں تو دونوں ہی کچھ نہ بتائیں مگر جب ہم اور وہ قطنا کی جیل میں منتقل ہوئے تو ایک روز ام جارج نے اپنی بہن کو خوب کوسنے دیے اور ان سب آفات کا سبب اسے اور اس کے شوہر کو قرار دیا اور اس نے اسے بددعا دی کہ اللہ اس کی قبر کو آگ سے بھر دے۔ قطنا ہی سے انھوں نے ان دونوں کو بن المرہ میں منتقل کر دیا، جہاں انھوں نے ماریٹ کو تو پھانسی کی سزا دے دی، مگر ام جارج کو وہ دوبارہ قطنا لے آئے اور وہیں پر ہم نے لبنان ریڈیو سے اس کے شوہر کی پھانسی کی خبر سنی۔ مرض کا علاج...... گالیاں : جیل کے حالات ناگفتہ بہ تھے، مسلسل غذائی قلت اور قوت بخش خوراک کی کمی کے اثرات ہم پر نظر آنا شروع ہو گئے، ہم میں سے اکثر مختلف امراض کا شکار ہو گئیں۔ افسوس تو یہ تھا کہ جیل کے قانون میں درج مراعات سے بھی ہمیں محروم رکھا جاتا تھا۔ مجھے بھی اکثر قیدیوں کی مانند "نظاریہ" کی تکلیف ہو گئی۔ شروع میں خون آنا شروع ہوا اور میرے معدے میں مستقل درد رہنے لگا۔ تکلیف اتنی بڑھ گئی کہ اجابت میں خون ہی نظر آتا اور میں کچھ بھی ہضم کرنے کے قابل نہ رہی۔ ڈاکٹر عائشہ نے جلدی میرے زخموں کی تشخیص کر لی اور باقی سب لڑکیاں اپنے کھانے کا بہتر حصہ میرے لیے نکالنے لگیں، لیکن مناسب غذا نہ ملنے کے سبب میرے مرض میں اضافہ ہوتا چلا گیا اور بے بسی دوچند ہو گئی۔ مرض اگلے مرحلے میں داخل ہوا تو ہم نے افسر کو علاج اور مناسب غذا کے لیے درخواست پیش کی۔ جواباً اس نے بھرپور عنایت کی اور مجھے بلوالیا۔ میری عرض داشت سننے کے بعد اس نے مجھے گالیوں سے بھرا ایک طویل لیکچر دیا جو میرے اور میرے "مجرم" بھائی کے بارے میں تھا اور پھر مجھے اسی مفلوک الحال جگہ واپس لوٹا دیا جہاں سے میں آئی تھی۔ ہم میں خون کی کمی اور دانتوں میں درد کا عارضہ بھی شدت اختیار کر گیا۔ ام شیما کی داڑھ میں کیڑا لگنے سے شدید درد ہو گیا، انھوں نے درد کم کرنے کی دوا مانگی تو کوئی جواب نہ ملا، وہ تکلیف کی شدت سے نڈھال منتیں کرتی رہیں مگر وہ نس سے مس نہ ہوئے۔ ام شیما کی حالت بگڑتی رہی مگر اہل کاروں کے کان پر جوں نہ رینگی اور آخر میں جب پورے بلاک کی خواتین ان کی خاطر چیخیں چلائیں کہ وہ اس تکلیف سے مر رہی ہیں، تو وہ انھیں ڈاکٹر کے پاس لے جانے کو تیار ہوا، لیکن اس معاملے کو بھی مکمل راز میں رکھا گیا۔ ام شیما کے ہاتھ پاؤں باندھ کر اور ان کی آنکھوں پر پٹی باندھ کر، جیل کی مخصوص گاڑی میں نامعلوم ڈاکٹر کے پاس لے جایا گیا۔ وہ ڈاکٹر اس طرح سفاک تھا کہ اس نے بلا ئن کیے ان کی داڑھ نکال دی۔ آپریشن کے دوران اتناؤڈاکٹ لگایا کہ ان کی مسوڑھے کی ہڈی تک کاٹ دی، واپس لوٹیں تو پہلے سے بھی برے حال میں تھیں اور اگلے کتنے ہی دن اسی تکلیف سے کراہتی رہیں۔
بلاک میں کئی لڑکیاں کیلشیم کی کمی کا شکار ہو گئیں۔ ان کے لیے سیدھے کھڑا ہونا مشکل ہو گیا، رغداء اسی سبب سے لڑکھڑا کر گری اور دیوار سے جا ٹکرایا۔ کئی لڑکیوں نے مل کر اسے اٹھایا۔ اس کے بعد ہم نے کسی طرح انڈے کی سفیدی کھانا شروع کر دی۔ ہم اسے خوب پھینٹ لیتے اور تھوڑا تھوڑا کر کے بانٹ کر کھا لیتے تھے۔ اسی طرح ہم نے آلو کے چھلکے کھانا شروع کر دیے۔ اہل کار بھی کبھی کبھار ہمیں الیکٹرک کیل فراہم دیتے، تو ہم چائے کی استعمال شدہ پتی کو دوبارہ ابال کر قہوہ بنا کر پی لیتے تھے۔ اس کے بعد ہم کبھی ان سے چولہا بھی مانگ لیتے اور کچھ اپنے طور پر پکا لیتے یا گرم کر لیتے تھے۔ اسی طرح ہر ہفتے جب ہمارے بلاک کے لیے مرغی آتی تو ہم اس کے بازو "وگز" ان سے مانگ لیتے اور وہ اس شرط پر ہمیں دے دیتے کہ ہم ان کو بھی بنا کر دیں گے اور جب ہم اسے بلاک کے چودہ قیدیوں میں تقسیم کرتے تو ہر ایک کے حصے میں چند ریزے گوشت ہی آتا، ہم اسے روٹی میں لپیٹ کر اس لذت کے احساس سے کھاتے گویا ہمارے سامنے پورا مرغ مسلم پڑا ہو۔ من چاہی سزائیں ان مشکلات اور سختیوں کے باوجود اگر ہم اپنی حالت کا مقابلہ نوجوان قیدیوں سے کرتے تو وہ بالفعل جہنم میں رہ رہے تھے۔ جب بلاک میں خواتین قیدیوں کی تعداد دو سے زیادہ ہو جاتی اور ہم گھنٹے کی شکایت کرتے اس وقت ان کے ایک ایک بلاک میں پچاس سے زیادہ گرفتار ان بلا ہوتے اور اور انھیں دن میں بھی سانس لینا دشوار محسوس ہوتا اور رات کو سونے کے لیے پاؤں دیوار کے ساتھ اونچے کر کے صرف کمر زمین پر رکھ سوتے اور اس میں بھی انھیں اپنی باری کا انتظار کرنا پڑتا۔ ان کے بلاک پر مستقل پہرا ہوتا اور کسی کو ہلکی سی آواز نکالنے کی بھی اجازت نہ ہوتی۔ ان کے طاق کھلے رکھے جاتے اور اگر کوئی قیدی اپنے ستی سے سرگوشی کرتے ہوئے پکڑا جاتا تو اسے عقوبت کا سامنا کرنا پڑتا اور اس کی مقدار کا تعین ڈیوٹی پر موجود اہل کار کے موڑ پر ہوتا۔ گالیاں اور ڈانٹ پھٹکار ملکی سزا شمار ہوتی اور یہ بھی ہوتا کہ آدھی رات کو اسے تمکی پر لکا دیا جاتا۔ ڈیوٹی اہل کار کا احکامات دہراتا رہتا: اب سو جاؤ، اب اٹھ جاؤ۔ اب کھاؤ۔ اب 'خط' میں جانے کا وقت ہے اور کچھ وقت گزرنے کے بعد ان اتنی سہولت مل گئی کہ وہ اکٹھے نماز بھی پڑھنے لگے اور جہر نمازوں کی آواز ہمارے بلاک تک بھی آنے لگی اور بعض اوقات الحالیہ مدیحہ بھی انھیں کی اقتدا میں نماز پڑھ لیتیں۔ جیل کے اہل کاروں کو اس کی بھی خبر ہو گئی مگر انھوں نے کوئی طوفان کھڑا کیا۔ ایک دفعہ جب وہ نوجوانوں کو لائن سے واپس لے جا رہے تھے ایک نوجوان نے دوبارہ وہاں جانے کی اجازت چاہی۔ اس کا جواب اسے گالیوں اور مغلاظات کی صورت میں ملا۔ نوجوان واقعی مجبور تھا، وہ منتیں کرنے لگا، لیکن اہل کار ڈار رہا، بلکہ اسے مار مار کر آگے لے جانے لگا۔ الحاجہ مدیحہ نے دروازہ بجایا اور زور سے بولیں: یہ کیا طریقہ ہے؟ بخدا کیا کافرانہ انداز ہے، وہ تم سے بیت الخلا میں جانے کی اجازت مانگ رہا ہے اور آپ حضرت جو خود ایک دن میں ہیں میں مرتبہ حمام میں جاتے ہیں، اس کے اکڑے کھڑے ہیں۔ کیا یہ بھی آدم کی اولاد نہیں ہیں۔
نوجوانوں کو غسل کے لیے نکالا جاتا تو یہ بھی کسی عذاب سے کم نہ تھا۔ انھیں باری باری غسل خانوں میں بھیجا جاتا اور دروازے پر زنجیر مارنے کا مطلب تھا کہ اب باہر نکل آؤ اور خاص طور پر اگر یاسین ڈیوٹی پر ہوتا تو اس کا مطلب تھا ہر حال میں فوراً باہر آؤ، وہ مسکین اندر جاتے اور ابھی کپڑے بھی نہ اتار پاتے کہ واپسی کا بگل بج جاتا اور اکثر قیدی اپنی پیٹھوں کو بچانے کے لیے صفائی کا اہتمام کیے بغیر ہی باہر نکل پڑتے تھے۔
ان کے لیے حجامت بنوانا بھی ایک معرکہ سے کم نہ تھا۔ حجام استرا پکڑ کر ایک کرسی پر بیٹھ جاتا اور قیدی گھٹنوں کے بل جھک کے اس کے آگے آتے جاتے اور وہ نہایت لاپرواہی سے ان کے سروں پر استرا چلاتا تھا۔ نہ وہ کسی کے زخم کی پروا کرتا نہ کھال ادھڑنے کی یا اس بات کی کہ اس کا استرا کسی کی آنکھ، کان یا گردن پر نہ لگ جائے اور نو نوجوان اس کی کارگزاری پر مسک بھی نہ سکتا، کیونکہ اس کے معنی اسے غصہ دلانے کے تھے اور وہ غصے میں کچھ بھی کر سکتا تھا۔ ہم اللہ کا شکر ادا کرتے کہ ہم حجام کے استرے سے دور تھے، لیکن پانی کی قلت اور صفائی کے لیے مناسب اشیاء نہ ہونے کے باعث ہم بھی گندے رہنے پر مجبور تھے۔ کیز رات اتنا چھوٹا تھا کہ ایک قیدی کے غسل سے سارا گرم پانی ختم ہو جاتا، کپڑوں کی کی بھی صفائی میں رکاوٹ پیدا کرتی اور یوں ہم بھی کئی کئی روز صفائی کا اہتمام نہ کر پاتے تھے۔ ہم میں کئی ایسی خواتین بھی تھیں جن کے پاسصرف ایک جوڑا کپڑے ہی تھے، وہ غسل خانے میں انھیں دھو کر سوکھنے کا انتظار کرتے۔ کپڑوں کو بلاک کی رسی پر پھیلا دیا جاتا (اور گیلے کپڑوں کی سیلن بلاک کے جسم کو کر دیتی اور اس کے قطرے ہمارے اوپر پڑتے رہتے) اور سوکھنے کے بعد ہی وہ انھیں پہن کر باہر نکلتیں، لیکن ہمارے پاس صبر کے سوا کوئی چارہ نہ تھا۔ جیل کے قواعد کے تحت امن بلاک کی جانب سے ہفتہ وار تفتیش ہوتی۔ ابراہیم اپنی باری پر کھڑکی پر زور سے ہاتھ مارتا اور ان کی سلاخوں کو چیک کرتا کہ وہ اسی طرح موجود ہیں، الحاجہ کے صبر کا پیمانہ لبریز ہو جاتا اور وہ زور سے کہتیں: تمہارا کیا خیال ہے کہ ہم نے اسے کیا کیا ہوگا؟ ہم عورتیں اسے اکھاڑ کر فرار ہو سکتی ہیں؟ وہ سرد مہری سے کہتا: یہی احکامات ہیں اور ہمیں انھیں نافذ کرنا ہے۔ لیکن ہمارے تنگ ہونے کی فقط یہی ایک وجہ نہ تھی۔۔۔ ایک روز کمبلوں کی جانچ پڑتال ہوتی۔ صحت عامہ کی حفاظت کے پیش نظر جیسا کہ بظاہر بیان کیا جاتا یہ دن بھی ہمارے لیے عذاب اور سزا کا ہوتا۔ وہ سارے بلاک کے کمبل اکٹھے کر کے لے جاتے اور پھرنہ جانے کیا کرتے کہ جب واپس لائے جاتے تو وہ بھیگے ہوتے اور ان اٹھنے والی بدبو سے بلاک سڑ جاتا اور ہمیں اپنا دم گھٹتا ہوا محسوس ہوتا۔ یہ معاملہ اس وقت شدت اختیار کر گیا جب بلاک میں ہر طرح کی بیماریاں پھیلنے لگیں اور ہر جانب کیڑے مکوڑے رینگتے نظر آنے لگے۔ ہماری آمد کے دو ماہ بعد ہی تمام قیدیوں کے سروں میں جوئیں اور کمبلوں میں پھٹل بھر گئے۔ ایک روز انھوں نے بلاک کوئی حفاظتی تدبیر کیے دوا چھڑک دی جس سے ہمیں قیدی آنا شروع ہو گئی اور کئی گھنٹے تک ہمارا سانس درست نہ ہوا۔۔۔ اس سب کے باوجود ہمارا حال قیدی جوانوں سے بہت بہتر تھا، جنھیں وہ ایک ایک کر کے جیل کی سلاخوں کے پاس بلاتے اور ان کے سر میں پھٹل ماروائی انڈیل دیتے تھے۔ تقریباً ایک سال میں اس پر عذاب ماحول، سادہ صحت بخش اور مقوی غذاؤں کی قلت نے مسکین قیدیوں کی اچھی خاصی تعداد کو تب دق کے مرض کا شکار کر دیا۔ ہم آدھی رات کو ان کے کھانسی کے دوروں کی آواز سنتے اور سنے جاتے ہوئے ہم ان کے لرزیدہ جسموں کو دیکھتے۔ جو ایک دوسرے سے سہارا لیے ہوئے مشکل چل رہے ہوتے یا ان میں سے بعض کو اٹھا کر حمام میں داخل کیا جاتا۔ ایک روز جبکہ میری باری پر مطبخ صاف کر کے کوڑا پھینکنے آگے بڑھی، ابراہیم دروازہ کھول کر میرے پاس مطبخ میں آگیا، اس کے ہاتھ میں چاقو تھا اور بلاسبب وہ مجھے کہنے لگا: خدا کی قسم میں اسے تمھارے سینے میں اتار دوں تو ٹھیک ہوگا۔ لیکن میں نے اسے کوئی جواب نہ دیا اور اندر چلی گئی، اچانک حسین ادھر آگیا، اس کے ہاتھ میں کھانے کا طشت تھا جو خون سے بھرا ہوا تھا، وہ مجھے دیکھے بنا ابراہیم سے کہنے لگا: سید مرگیا۔ ابراہیم بولا: جہنم میں جائے۔۔۔ ابھی قید تنہائی کے سیل کا دروازہ بند کر دو۔ پھر سوچتے ہیں کہ کیا کرنا ہے۔ میں نے بلاک میں واپس آنے کے کچھ دیر بعد طاق میں سے دیکھا تو ایک نوجوان کی میت کو قید تنہائی کے سیلوں کی جانب سے اٹھا کر لارہے تھے۔ میں نے باقی سب کو بتایا تو الحاجه کہنے لگیں کہ انھوں نے کل دیکھا تھا کہ وہ ایک نوجوان کو بلاک سے قید تنہائی کے سیل کی جانب لے کر جا رہے تھے، وہ اس قدر کمزور ہو چکا تھا کہ چل بھی نہ سکتا تھا، اس لیے وہ اسے اٹھا کر لے گئے اور جب ہمیں ایک نظر آراطو الحاجہ نے اپنی عادت کے مطابق اس سے اس نوجوان کے بارے میں پوچھا۔ اس نے فقط اتنا کہا کہ وہ طبعی موت مرا ہے، تب دق کے مرض سے۔ بھیڑیا اور قصاب جہاں بیماروں کی صورتیں ذہن سے چپک جاتیں اور بھلائے نہ بھولتیں، وہاں تعذیب
جاری......
Tags
قسط وار