لیکن بے نتیجہ۔ جب ہم نے دوبارہ وہی سوال دہرایا تو ایک اہل کار آکر کہنے لگا: خلاص..... کوئی رہائی نہیں۔ اخوان المسلمون نے دمشق میں ایئرپورٹ پر حملہ کر دیا ہے اور سارا معاملہ چوپٹ کر دیا ہے۔ اب اخوان کے جرم کی سزا بھی تمہیں بھگتنا پڑے گی ۔ وہ جو بھی کریں گے ہم ان کی قیمت تم ہی سے وصول کریں گے۔اور نامعلوم رہائی کے اس جھوٹے قصے پر بھی رونا چاہیے یا ہنسنا، کہ اندر کی ایک خبر ”تمحیص السجون“ (جیل کی صفائی) کے عنوان سے ہم تک پہنچی، جس کے معنی تھے کہ سب قیدیوں کو اکٹھے رہائی کا پروانہ مل جائے گا۔ الحاجہ ریاض نے شوق سے پوچھا: کب؟ تو جواب آیا: دو روز بعد۔ ہر طرف یہ خبر عام ہوگئی کہ ”تمحیص“ سے مراد عام معافی اور رہائی ہے۔ دو دن بعد رہائی کا پروانہ تو نہ ملا، ہاں مزدور چونا اور پینٹ کا سامان اٹھائے جیل کو عملی طور پر صاف کرنے کے لیے سفیدی کرنے آگئے اور بے گناہوں کے خون سے لتھڑی ہوئی دیواریں اور گزر گاہیں صاف ہونے لگیں۔ الحاجہ نے انھیں بڑی تلخی سے کہا: کیا تمھارے نزدیک جیل اسی طرح صاف ہوتے ہیں اور یہی ”تمحیص السجون“ ہے؟ جواب ملا: ہاں اب تو ہم نے عملاً اسے سفید کر دیا ہے (اپنے کارتوتوں پر ملیچ چڑھاکر)۔ اگلے کئی روز الحاجہ اس نئے غم سے کوڑھتی اور روتی رہیں۔ ان کے رونے میں استاد ورتھا کہ ہم سب کے زخم کھل جاتے اور ہمارا حال ان سے مختلف نہ رہتا۔ہمیں قید ہوئے تقریباً آٹھ ماہ ہو چکے تھے جب اچانک ایک دن رعداء اور لمی کے نام پکارے گئے، ایک اہل کار آیا اور ان دونوں کو ساتھ لے گیا۔ ہمارا خیال تھا کہ ان کی ملاقات آئی ہے، لیکن دو گھنٹے گزر گئے مگر وہ واپس نہ لوٹیں۔ کچھ دیر بعد اہل کار آئے اور دو اور قیدیوں کو لے گئے اور جب وہ ساتویں کو لینے آئے اور کوئی بھی واپس نہ پلٹی، تو ہم نے اس سے کہا: جب یہ تمھیں باہر لے جائیں اور وہاں ملاقاتی ہو تو تم کھانس دینا اور اگر کوئی اور معاملہ ہو تو خاموش رہنا۔ وہ اسے اوپری حصے سے دوسرے ”قبو“ (کوٹھری) کی جانب لے گئے اور وہاں سے دوسرے کمرے میں۔ ہم کان کھڑے کیے اس کی کھانسی کے خطرہر ہے، لیکن اس نے کھانسی کے بجائے خاموشی اپنائی، تو ہمیں یقین ہو گیا کہ کوئی اور معاملہ ہے۔ تقریباً ایک گھنٹے بعد وہ ان ساتوں کو اکٹھا ہی لے آئے۔ ان کے چہرے مضطرب تھے اور رنگ پیلے ہو رہا تھا اور ان کے کانپتے ہونٹوں سے پہلی مرتبہ ہم نے ”محکمہ میدانیہ“ کا ذکر سنا۔ یہ ایک عدالت تھی جس کا سربراہ سلیمان حبیب پولیس افسر تھا، جس کے جسم پر کسی چمپیری کی مانند بال تھے ۔ دبلا پتلا، کوتاہ قامت، میز کے پیچھے کھڑا بمشکل نظر آتا۔ اس کے ساتھ چار پولیس اہل کار تھے، جو ہر لڑکی پر لگائے گئے الزامات بآواز بلند پڑھ کر سناتے اور اس سے اعتراف کرواتے اور اس سے دوبارہ ان الزامات کو دہرانے کے لیے کہتے تاکہ انھیں تسلی ہو جائے کہ اس نے یہ سب سن لیا ہے اور اس پر اس کے دستخط لے لیتے اور اسے بھیج دیتے۔ اس مقام پر انھیں کوئی تعذیب نہ کی جاتی صرف دھمکایا جاتا، انھوں نے جب ماجدہ کے سامنے سارے الزامات دہرائے اور اس کے اقرار کا ذکر کیا تو ماجدہ نے بتایا کہ اس سب تعذیب کے نتیجے میں کہلوایا گیا تھا اور وہ مجرم نہیں، تو نقیب حبیب اسے کہنے لگا: اگر تم سچ نہیں بولو گی تو میں تمھیں اس کھڑی سے باہر پھینک دوں گا اور تمھیں پھانسی چڑھا دوں گا ۔ تمھارا گلا گھونٹ دوں گا۔ پھر اگلے ہی روز انھوں نے اس کے پاس ناصیف نامی اہل کار کو بھجوایا جو اس سے کہنے لگا: تم نے کل عدالت کے سامنے کہا ہے کہ تمھیں تعذیب کا نشانہ بنایا گیا ہے۔ تمھیں کس نے ٹارچر کیا..... کیا تمھیں کسی نے مارا؟ کیا واقعی کسی نے تمھیں اذیت دی؟ وہ گھبرا کر بولی: ہاں۔ وہ دھمکاتے ہوئے بولا: کون..... اس کا نام بتاؤ؟ حالانکہ اسے اچھی طرح یاد تھا کہ خود ناصیف نے اسے کس طرح تشدد کا نشانہ بنایا تھا، مگر وہ خوف اور اضطراب سے بولی: میں نہیں جان وہ ڈھٹائی سے کہنے لگاہ نہیں، نہ تو کسی نے تمھیں تعذیب دی نہ کسی نے ہاتھ لگایا، ہمارے یہاں تو کسی کو ہاتھ لگانا بھی ممنوع ہے لیکن تم جھوٹ بول رہی ہو۔ ظاہر ہے تم نے خوف میں یہ سب کچھ کہا ہے۔ تم کیوں اتنی خوف زدہ ہو؟ دھمکیاں ان تہمتوں سے کم نہ تھیں، جس کا اظہار وہ بڑی چرب زبانی سے محکمے کے سربراہ اور ان کے اہل کاروں کے سامنے کر رہے تھے۔ ماجدہ نے ان کے سامنے صاف صاف بیان کر دیا کہ کس طرح اس کا تعلق ایک قیدی خالد محمود کے ساتھ جوڑا گیا ہے، تو رئیس المحکہ چیخ کر بولا: کیا یہ ضروری ہے کہ میں تمھیں بتاؤں کہ خالد محمود نے تمھارے پیروں کی رنگت کے بارے میں کیا کہا ہے اور اس کے ساتھ ہی اہل کاروں کے فاجرانہ قہقہے بلند ہونے لگے اور وہ اس بے چاری کا مذاق اڑانے اور اسے نشتتر چھونے لگے اور ماجدہ شرم کے مارے حواس کھونے لگی۔ اسی طرح الحاجہ ریاض جب محکمانہ کارروائی کے بعد لوٹیں تو بلک بلک کر رو رہی تھیں، ہم نے پوچھا تو وہ کہنے لگیں، کہ انھوں نے چلا کر ان سے کہا: تم اس قید خانے میں ہی سڑوگی بالکل اصحاب کہف کی مانند۔ میرے ماں باپ تجھ پر قربان الحاجہ۔ سویرے تم بھی چلی جاؤ گی اور میں اکیلی ان دیواروں سے ٹیک لگائے یہیں رہ جاؤں گی۔ پالہ اس وقت تک اپنے مرض میں تھی، اسے کچھ معلوم نہ تھا کہ اس کے اردگرد کیا ہو رہا ہے۔ اس کے باوجود اسے بھی دوسروں کی مانند محکمے میں پیش کیا گیا ۔ وہ اسے کسی جانور کی مانند گھسٹتے ہوئے لے جاتے اور جب وہ واپس آتی تو رہ گزراور زینوں کی ساری گندگی اس کے کپڑوں پر لگی ہوتی اور وہ جگہ جگہ سے پھٹے ہوتے اور یہ شدید سردی کا موسم تھا۔ جب ہم سات قیدیوں کی پیشی کا مرحلہ گزر گیا اور ایسا ہی معاملہ دوسرے قیدی خاتون میں بھی مکمل ہو گیا، تو دو ماہ بعد صرف اخوان سے متعلق قیدیوں کا دوبارہ محاکمہ شروع ہو گیا، جب مجھے محکمے میں پیش کیا تو انھوں نے بآواز بلند الزامات پڑھ کر سنانا اور اس کارروائی کے بعد نقیب سے پوچھنے لگا: تمھارا مخلص قنوت سے کیا تعلق ہے؟ میں نے کہا: میں اسے نہیں جانتی۔ بولا: تمھارا اور اس کا تنظیمی ربط نہیں رہا؟ میں نے کہا: کبھی نہیں۔ پھر وہ پوچھنے لگا: لیکن اس نے اعتراف کیا ہے کہ وہ تمھیں جانتا ہے۔ میں نے کہا: یہ درست نہیں۔اور واقعی میں اس نوجوان کو نہ جانتی تھی اور نہ ہی میرا کبھی اس سے رابطہ ہوا تھا۔ اگر چہ وہ میرے بھائی کے دوستوں میں سے تھا اور یہ سب عبدالکریم رجب کے افترا کا نتیجہ تھا۔ فوراً ہی ایک مسکین نوجوان کو منسٹر بیپر پر ڈالے اندر لے آئے اور اسے زمین پر لٹا دیا۔ اسے گولی لگنے کے واضح نشانات تھے، جو بھاگنے کی کوشش میں اس پر چلائی گئی تھی، رئیس المحکہ اس سے پوچھنے لگا: تم اس لڑکی کو جانتے ہو؟ وہ بولا: نہیں۔ پھر اس نے مجھ سے پوچھا: کیا تم اس شخص کو جانتی ہو؟ میں نے کہا: نہیں ۔ جو شخص اسے لے کر آیا تھا وہ اس سے مخاطب ہو کر کہنے لگا: خلاص۔ اسے یہاں سے لے جاؤ، اس کے خاتمے کا وقت آ گیا ہے۔ اور ایسا ہی میں نے اس کے بارے میں سنا۔ انھوں نے یہاں سے واپس جا کر اسے موت کے گھاٹ اتار دیا۔ اس کے جانے کے بعد نقیب دوبارہ میرے پاس آکر پوچھنے لگا: تو پھر تم اس الزام کو تسلیم نہیں کرتیں جو تم پر لگایا گیا ہے؟ میں نے کہا: نہیں۔ بولا: کیوں؟ کیا کسی نے تم سے یہ اعتراف کروانے کے لیے دباؤ ڈالا یا جبر کیا تھا؟ میں نے زور دے کر کہا: میں نے یہ سب کبھی نہیں کہا اور وہ مجھے قتل کر کے مجھے سے یہ نہ کہلوانا سکتے۔ وہ مصنوعی حیرت سے کہنے لگا: یعنی انھوں نے تمھیں عذاب دیا؟ میں نے کہا: ہاں انھوں نے مجھے بہت عذاب دیا، کیا آپ نہیں جانتے؟ بولا: نہیں، میں نہیں جانتا۔ اس نے اعلیٰ تفتیشی افسر ابو فارس کو آواز دے کر بلایا۔ یہ وہی شخص تھا جو مجھے بلاک سے لے کر آیا تھا، وہ اسے کہنے لگا: سنو۔ اس کے لیے اور اس کی ساتھی ماجدہ کے لیے رحم کی اپیل کے لیے تیاری کرو۔ مجھے اس نے ایک ورق پر دستخط کر کے جانے کا اشارہ کیا، تاکہ میرا کیس لکھا جا سکے اور چار پانچ دن بعد مجھے اور ماجدہ کو الگ الگ دوسری بجیہ (کونسل) میں طلب کر لیا گیا۔ میں جب ان کے سامنے پیش ہوئی تو نقیب سلیمان نے کہا کہ میں اپنی زندگی کے بارے میں بیان کروں۔ میں نے عمومی انداز میں بیان کیا اور خاص طور پر ذکر کیا کہ یہ جھوٹ ہے کہ میں اخوان کی ناظمہ ہوں اور ان سب الزامات کا ان کو مسترد کرتی ہوں، اس پر وہ کہنے لگا: ٹھیک ہے لیکن میں تم سے ایک بات پوچھنا چاہتا ہوں: اگر اس کونسل کے ارکان میں سے کوئی تم سے شادی کرنا چاہے تو کیا تم مان جاؤ گی؟ . میں نے فوراً کہا: نہیں۔ بولا: کیوں؟ میں نے ٹھہر ٹھہر کر جواب دیا: پہلی بات تو یہ ہے کہ میں اپنے گھر والوں کی خواہش اور رضامندی کے بغیر شادی کبھی نہیں کروں گی اور دوسرا یہ کہ میں ابھی شادی نہیں کرنا چاہتی۔ دوسرا بولا: کوئی خاص وجہ؟ میں نے کہا: میں تعلیم مکمل کرنا چاہتی ہوں اور یہ معاملہ میرے سوچنے کا نہیں۔ وہ کمیگی سے بولا: اللہ کی قسم اگر ابھی ان نیچے والوں (مراد سیلوں میں قید اخوانی قیدی نوجوان) میں سے تمھیں کوئی پیغام نکاح بھیجے، تو تم ہاتھ سے پہلے پاؤں سے بھی اسے ہاں کہہ دو گی۔ میں نے کہا: یہ بات درست نہیں۔ بولا: میں قسم کھا سکتا ہوں۔ پر ہاں! ایک ٹکڑا... ایک کویتی رسالے کی جانب اشارہ کر کے کہنے لگا: دیکھو باہر اخوان تمھارے بارے میں کیا لکھ رہے ہیں۔ کویت اور عراق میں۔ مجھے تو اس میں واقعی کچھ دکھائی نہ دیا، لیکن وہ خود ہی پڑھنے لگا، ہبہ اور اس کا شوہر اور بچے شام کے قید خانوں میں ہیں اور ماجدہ اور اس کے بچے بھی اور اس کے شوہر کو شہید کر دیا گیا ہے اور اسی نوع کی دوسری مبالغہ آمیز خبریں۔ میں نے اسے کہا: الحمد للہ میں یہاں ہوں، اب مجھے کیا معلوم کہ باہر کیا ہو رہا ہے۔ یوں رحم کی اپیل کی مجلس اختتام پزیر ہو گئی ۔ نہ تو مجھے یہ پتہ چلا کہ ان الزامات کا کیا ہوا اور نہ ہی یہ کہ ان کے بارے میں کیا فیصلہ صادر کیا گیا۔ وہ مجھے واپس بلاک میں لے آئے اور تھوڑی دیر بعد ماجدہ کو لے گئے۔ وہ واپس آئی تو کوئی بات کیے بغیر بستر پر بیٹھ گئی۔ وہ نہ جانے کن سوچوں میں گم تھی کہ اس نے کسی بات میں بھی حصہ نہ لیا۔ آدھی رات کو مجھے اپنے کان میں سرگوشی سنائی دی: میں مزید اپنے اوپر قابو نہیں رکھ سکتی۔ اس بات سے میرے پیٹ میں مروڑ اٹھ رہے ہیں۔ میں نے پوچھا: کیا ہوا ہے؟ بولی: اللہ کا واسطہ ہے کسی سے کچھ نہ کہنا اور اگر پوچھے تو انکار کر دینا کہ تم نے کچھ سنا ہے۔ میں نے کہا: ان شاء اللہ خیر ہوگی۔ بولی: ابو فارس نے کہا ہے کہ وہ مجھے اس شرط پر رہا کرنے کو تیار ہے کہ میں ان کے ساتھ کام کرنے لگوں۔ مجھے سمجھ نہیں آرہی تھی کہ کیا جواب دوں، سومیں نے ان سے دوون کی مہلت مانگ لی۔ میں اسے کیا کہتی، کیسے اسے تسلی یا کوئی مشورہ دیتی۔ میں نے اسے اپنے ساتھ لگا لیا اور محبت سے کہا: گھبراؤ نہیں، ان کا یقین مت کرو۔ وہ محض جھوٹ بک رہا ہے تا کہ تمھارا عمل دیکھے۔ وہ تمھارے اعصاب سے کھیل رہا ہے۔ اس کا یقین مت کرو اور نہ ہی ان الزامات کی پروا کرو۔
جاری

Masha Allah very very nice speach
جواب دیںحذف کریںبہت خوب مضمون
جواب دیںحذف کریں