اور تشدد کے بھی کچھ ایسے تکلیف دہ مناظر تھے جن کو بھلانا
ناممکن نہ تھا، خاص طور پر ان نوجوانوں کو جو دوران تعذیب موت کو گلے لگانے لگتے یا وہ نوجوان جن کے لیے موت اس الم اور عذاب میں راحت کا نام تھا۔ اسی طرح ایک رات اچانک تمام روشنیاں گل کر دی گئیں اور انھوں نے سب طاق بھی بند کر دیے۔ سٹریٹ لائٹ کی روشنی میں طاق کی درز سے ہم نے دیکھا، کہ وہ ایک سوٹ پہنے ٹائی لگائے ہوئے نوجوان کو اٹھائے ہوئے آئے اور اسے قید تنہائی کے سیل میں پھینک دیا۔ اس مرتبہ الحاجہ بھی انتہائی کوشش کے باوجود نہ جان پا ئیں کہ کیا ہوا ہے، لیکن گمان غالب یہی ہے کہ وہ اسی رات تعذیب برداشت نہ کرتے ہوئے جان کی بازی ہار گیا۔ ایک دفعہ اور ہم نے دیکھا کہ وہ ایک دیہاتی کو پکڑ لائے اور اسے برہنہ کر دیا۔ اہل کار دونوں جانب کھڑے ہو گئے اور ڈنڈوں اور کوڑوں سے اس کی درگت بنانے لگے۔ وہ اسے ہینڈز اپ کروا کر کبھی ایک جانب بھگاتے اور کبھی دوسری جانب۔ وہ کبھی تیزی سے بھاگتا اور کبھی سست پڑ جاتا، حتیٰ کہ وہ بے ہوش ہو گیا۔ پھر وہ اسے اٹھا کر وہ غسل خانوں میں لے گئے۔ وہ کبھی اس کے سر پر ٹھنڈا پانی ڈالتے اور کبھی تیز گرم۔ وہ مسکین بڑی بے بسی سے چیختا جاتا رہا، کسی کو اس پر رحم نہ آیا، گویا وہ بھیڑ بکری ہو، قصابوں کے بیچ میں۔ ان واقعات کے بعد جب کہ ہمیں ان کے بارے میں کچھ معلوم نہ تھا، ہمارے ونگ میں تعذیب کا سلسلہ زود افزوں ہو گیا، حتیٰ کہ ہم تک اس کی محض چیخ و پکار ہی پہنچتی تھی، اس کے ہول سے پناہ مانگنے لگے۔ الحاجہ مدیحہ نے ایک روز اہل کاروں کے سامنے ہاتھ جوڑ کر کہا کہ خدا کے لیے ہمیں یہاں سے کچھ فاصلے پر لے جاؤ، کیونکہ اب ہمارے اعصاب جواب دے گئے ہیں اور جس قدر تعذیب کا سلسلہ بڑھ رہا تھا اسی قدر قربان ہونے والوں کی تعداد بڑھ رہی تھی۔ آئے روز وہ ہمیں کسی میت کو کمبل میں یا کپڑے میں لپیٹ کر نامعلوم منزلوں کی طرف لے جاتے ہوئے نظر آتے۔ مجھے اب تک یاد ہے کہ ایک روز انھوں نے ان میں سے ایک مسکین کو کمرہ تعذیب سے نکال کر ہمارے بلاک کے سامنے لا ڈالا، تا کہ اسے دوسری جگہ منتقل کر کے باقی کسر پوری کر سکیں۔ اس کا چہرہ اور بدن زخموں سے چور تھا، پیاس کی شدت سے اس کی زبان باہر نکلی تھی اور جسم سے خون رس رہا تھا، وہ گڑگڑا کر پانی کا ایک گھونٹ مانگ رہا تھا، لیکن اسے جواب دینے والا کوئی نہ تھا ۔ کچھ دیر بعد ہم نے کچھ پانی بلاک سے باہر زمین پر بہا دیا اور اس نے زمین سے چاٹ لیا۔
وحشیانہ تعذیب کے سبب کتنے ہی قیدی اعصابی اور ہسٹریائی امراض کا شکار ہو گئے۔ ان میں سے ایک کے قہقہوں کی آوازیں ہم قریبی بلاک سے سنا کرتے، وہ جب روتا تو پورے بلاک پر اداسی چھا جاتی۔ اس کے نالے سن کر راتوں کی نیند اڑ جاتی تھی۔ ایک روز ایک اہل کار پوچھنے لگا کہ اگر آپ کے پاس کوئی نیند آور دوا ہو تو ایک گولی دے دیں یہ گولیاں کبھی کہبار الحاجہ مدیحہ استعمال کرتی تھیں: کیونکہ دوران تعذیب انھیں بجلی کے کرنٹ لگائے گئے اور اس کے اثرات وہ اب تک محسوس کرتی تھیں انھوں نے مزاح کے انداز میں پوچھا: آپ کو کیا ضرورت پڑ گئی ۔ آپ میں کس کو ہسٹريا ہو گیا ہے؟ وہ بولا: ایک مریض ہے، اس کی ہسٹریائی چیخیں ہمیں بھی خلق میں مبتلا کر دیتی ہیں۔ ایسا ہی ایک واقعہ جو ذہن میں بالکل تازہ ہے، انھوں نے ایک روز ہمارے بلاک کا دروازہ کھٹکھٹایا اور پوچھنے لگے کہ اگر کسی کے پاس کا جل اور لپ اسٹک ہو تو دے دیں۔ الحاجہ نے حیرت سے کہا: آپ کا کیا خیال ہے کہ ہم اپنے والد کی شادی میں آئے ہوئے ہیں، اس جگہ ہمارے پاس کاجل اور میک اپ کا سامان کہاں۔
اہل کار شرمندہ ہو کر بولا: میں نے سوچا شاید ... پھر وہ چلا گیا۔ تھوڑی ہی دیر میں وہ ایک نوجوان کو لے آئے اور اسے ہمارے بلاک کے سامنے کرسی پر بٹھا دیا، اس کے چہرے اور جسم پر تشدد کے واضح نشانات تھے۔ انھوں نے اسے کرسی پر ہاتھ پاؤں باندھ کر جکڑ کر بٹھا دیا اور پھر وہ اس کے چہرے کا میک اپ کر کے اس کے زخموں کو چھپانے لگے۔ الحاجہ بعد میں خبر لائیں کہ تھرڈ ڈگری استعمال کر کے اس سے کچھ اعتراف کروائے گئے ہیں، اب وہ اسے ٹیلی وژن پر پیش کرنا چاہتے ہیں، اس لیے اس کے زخموں کو چھپانا اور چہرے پر سرخی دکھانا مقصود تھا۔ جیل کے عذابوں کی کتنی ہی صورتیں اور رنگ ہوتے ہیں۔ جسم کے عذابوں کے زخم مندمل ہو ہی جاتے ہیں خواہ گھاؤ کتنے ہی گہرے ہوں، رہے روح کے عذاب اور اندر کا قلق تو اس سے چھٹکارا پانا آسان نہیں ہوتا۔ ہماری آزادی کی قتل اور اتنی تکلیفوں کے بعد ہر آن رہائی کا خواب دیکھنا اور ہر کھٹکے سے آزادی کی پکار کی امید لگان بالکل فطری امر تھا۔ ظاہر ہے ہر ایک کی کیفیت مختلف ہوگی اور ان کی صلاحیتیں بھی مختلف ہوں گی، بالکل اسی طرح جیسے اس کشیدگی کی فضا میں جیل حکام اور اہل کار اپنی اپنی صلاحیت کے مطابق ہمیں اذیت دے کر لطف لیتے تھے۔ سب سے بڑھ کر ایک رئیس نوپتے ابو رامی مزے لیتا۔ وہ اکثر جھوٹ گھڑ کر قیدیوں سے اپنا مطلب نکلواتا رہتا۔ وہ قیدیوں سے وعدہ کرتا کہ ان کی رہائی کا وقت قریب ہے۔ وہ اس کی بات کا یقین کر لیتے اور اس کے مطالبات مانتے، پھر اچانک اس کے جھوٹ کی قلعی کھل جاتی، کچھ دیر بعد وہ جھوٹ کا نیا جال بننا شروع کر دیتا، گویا وہ ان کا تمسخر اڑا رہا ہو، کسی نفسیاتی مریض کی مانند۔
الحاجہ ریاض کو کسی نے بتایا کہ جب ابو رامی ٹرین کی سیٹی" کہے تو یہ رہائی کی جانب اشارہ ہوتا ہے۔ ایک روز وہ بلاک کی جانب آیا اور یہ کلمہ کہہ کر چلا گیا۔ الحاجہ اپنا دل سنبھالتی تیزی سے انھیں اور اسے آواز دے کر استفسار کرنے لگیں۔ وہ مسلسل سوال کر رہی تھیں مگر یہ جواب میں کچھ نہ بولا اور چلا گیا، انھوں نے کسی کو اسے بلانے کو کہا مگر وہ پھر بھی نہ آیا۔ کئی گھنٹے گزر گئے، الحاجہ کے اعصاب کھنچنے لگے، پھر وہ دوبارہ آیا اور کہنے لگا: پکی خبر یہ ہے کہ کل بارہ بجے تک، لیکن رہائی سے پہلے تمھیں میرے لیے ایک سویٹر بننا ہوگا، اگر کہو تو میں اون اور دیگر سامان ابھی لا دیتا ہوں۔ رہائی سے قبل سویٹر تیار ہونا چاہیے۔ وہ بے چاری فورا مان گئیں۔ پوری رات وہ اور الحاجہ مدیحہ سویٹر بنتی رہیں اور صبح ہونے تک سویٹر تقریباً مکمل ہو چکا تھا وہ سویٹر لینے آیا تو ایک سویٹر کی اون اور لے آیا اور دونوں سے کہنے لگا: مجھے ایک اور سویٹر بنا دو مگر آستین بغیر۔ میں بارہ بجے لینے آ جاؤں گا۔۔ وہ دونوں غریب پھر بننے بیٹھ گئیں اور اتنی مشقت کی کہ وقت سے پہلے وہ بھی بن کر اسے بھجوادیں۔ پھر اپنا سامان اکٹھا کر کے اس کے انتظار میں بیٹھ گئیں اور بارہ بجے گئے، مگر وہ نہ آیا۔ پھر شام ہوگئی اور سورج ڈھل گیا، پھر رات نے تاریکی کی چادر اوڑھ لی۔ نہ تو ابو رامی آیا، نہ ہی اس کی جانب سے کوئی معذرت۔ پھر ہمیں اس کا کھیل سمجھ آ گیا۔۔ الحاجہ ریاض اسے بددعائیں دینے لگیں اور اللہ سے شکایت کرنے لگیں۔ ان کی غم سے اتنی بری حالت تھی کہ لگتا تھا کہ وہ اس غم سے ہی مر جائیں گے۔
یہ کھیل جاری رہا، لیکن ہم جن آزمائشوں اور تکالیف میں تھے، ان میں ہم وہم سے بھی امید کشید کر لیتے تھے۔ ایک مرتبہ پھر انھوں نے ہم سے یہی کہا اور ہم سب سامان باندھ کر انتظار کرنے لگے۔ بارہ بجے تک ہم ہر آہٹ پر کان کھڑے کرتے رہے۔ لیکن بارہ کا ہندسہ آ کر گزر بھی گیا اور پورا دن ختم ہو گیا اور رات آگئی مگر ہمیں رہائی کا پروانہ نہ ملا اور جب ہم نے پوچھا وہ کہنے لگے۔
کچھ دیر مزید تاخیر ہوگی کیونکہ آپ کے پیپرز تیار ہو رہے ہیں۔ اگلے دن ظہر کا وقت ہو گیا،

تھکان اتارنے کے لئے کچھ دیر آیا ملا دیوبند کے کتے کو بھی
جواب دیںحذف کریںبہت خوب مضمون
جواب دیںحذف کریں