لیکن انھوں نے غصے سے نظر اٹھائے بغیر کہا نہیں ، بولا : مجھے حیرت ہے۔ اب کیا چاہتی ہو؟ کہنے لگیں: تم جانتے ہو میں کیا چاہتی ہوں۔ حتی کہ اللہ کا اذن آجائے ۔ وہ تم سب سے اچھا ہے اور وہ احکم الحاکمین ہے۔ اور تمھاری گردنیں توڑنے پر قادر ہے۔ وہ احمقانہ انداز میں بننے لگا۔ انھیں مقفل کر کے وہ مجھے میرے سیل میں لے آیا۔ شاید یہ احتقانہ اندازمیں انہیں کے وہ تیل میں سے اسی ہڑتال کا نتیجہ تھا کہ ہمیں دیگر خواتین قیدیوں کے پاس جیل میں اصحیح ( بلاک ) بھیج دیا گیا۔
خواتین کے بلاک میں
سیل میں رہتے ہوئے ہم نے منیرہ کے سوا کسی قیدی خاتون کو نہ دیکھا تھا، جب میں بیت الخلا جاتی تو سیاہ لباس میں ملبوس " الحاجہ مدیحہ بلند آواز میں قیدی عورتوں سے بات کرنے لگتیں یا انھیں چھوٹے چھوٹے کاموں کے لیے پکارنے لگتیں تا کہ ہمیں معلوم ہو جائے کہ ہم تنہا نہیں بلکہ بلاک میں اور بھی قیدی خواتین موجود ہیں ۔ مجھے بھی ان آوازوں سے انسیت ہو گئی اور میں طمانیت محسوس کرنے لگی کہ اس وحشت ناک مقام پر ہمارے علاوہ بھی کوئی ہے۔ آٹھ دن بعد جیلر میرے پاس آیا اور مجھے ایک سوال نامہ تھما دیا، جس میں میرا نام ، گرفتاری کی تاریخ ، اور اس کا سبب اور قید تنہائی ( المنبر دہ) میں گزارے گئے ایام کی تفصیل طلب کی گئی تھی۔ میں نے عمومی انداز میں لکھ دیا کہ مجھ پر اخوان کی تنظیم سازی کا الزام ہے۔ تھوڑی دیر بعد حسین آگیا، میں نے سوچا شاید تعذیب تفتیش اور الزامات کا نیا دور شروع ہونے کو ہے، اس نے مجھے ساتھ چلنے کو کہا: کہاں؟ تفتیش کے لیے؟ بولا نہیں۔
گرفتاری کے ایک ماہ بعد انھیں " سجن المسلیہ طلب سے کفر سوسہ منتقل کر دیا گیا۔ ان کے ہمر اہ اہم شیماء ، بیگم عبد العزیز شیخ ، عائشہ وغیرہ تھیں۔ ان کے ہمراہ ایک اور حاجہ بھی تھی ، وہ چھ ماہ کی حاملہ تھیں اور اس کی عمر محض سولہ برس تھی ، سالح کیائی ہی کی مخبری پر اس کے شوہر کو گرفتار کیا گیا ، اور اس سے القاعدہ کے ٹھکانے کا پتا پوچھتے رہے۔ جب اس نے اعتراف نہ کیا تو عمر حمیدہ کے حکم پر اس کی بیوی کو اٹھا لائے۔ اس کے سامنے اس سے زیادتی کی اور شوہر کو ہلاک کر دیا۔ پھر عورت کو سارے الزامات سے بری کر کے رہا کر دیا۔ الحاجه مدیحہ امی اور ہمیں باتوں میں لگائے رکھتیں تا کہ ہم پریشان نہ ہوں ۔ اسی طرحام شيماء اور عائشہ بھی۔ منیرہ ( جس نے مجھ سے سب سے پہلے تفتیش کی تھی ) دیکھ کر مسکرا دیتی۔ مانش حلب سے تھی اور ڈاکٹر تھی۔ اس نے زخمی نوجوانوں کا علاج کیا تھا اور اس جرم میں اسے گھر سے گرفتار کیا گیا ، کیونکہ وہ ان زخمیوں کو نہیں جانتی تھی ، بس اس کے پاس کچھ لوگ زخمی نوجوانوں کو لے کر آئے اور اس نے علاج کر دیا محض انسانی ہمدردی میں۔ لیکن اس جواب نے انھیں مطمئن نہ کیا، ان کا خیال تھا کہ وہ حکومت سے برسر پیکار نو جوانوں کے علاج پر مامور ہے۔ اسے تحقیق کے لیے مصطفی التاجر کے سامنے پیش کیا گیا، جس نے اس سے ابتدا میں پوچھا: کیا تم بلا حجاب رہنا پسند کرو گی؟ وہ بولی: طبعا نہیں۔ بولا: تمھارا کیا خیال ہے اگر تمھیں بغیر حجاب کے رکھا جائے؟ اس کی آنکھیں بھیگ گئیں اور وہ ان کی منت سماجت کرنے لگی لیکن اس مجرم نے اس کو موقع ہی نہ دیا، اور کسی وحشی جانور کی طرح اس پر پل پڑا، اس پر تھپڑوں اور گھونسوں کی بارش کر دی، اور اس کے کپڑے پھاڑ کر ٹکڑے ٹکڑے کر ڈالے، اور وہ زنجیروں میں جکڑی اپنی مدافعت بھی نہ کر پائی۔ اس نے اس کے سارے کپڑے پھاڑ کر اتار دیے۔ جب صرف جرابیں باقی رہ گئیں تو بولا : چلو ان کو چھوڑ دیتا ہوں تا کہ تمھیں سردی نہ لگ جائے۔ پھر اسے الٹا لٹکا کر مختلف طرح کے ٹارچر کا نشانہ بنایا: کوڑے اور ڈنڈے برساتے بجلی کے کرنٹ لگائے ۔ اس کی نظر کی عینک اتار لی۔ پھر عمر حمیدہ آگے بڑھا اور اس کے ہاتھ پاؤں میں ہتھکڑیاں لگا کر پیچھے کی جانب باندھ دیا، اسے کرسی پر بٹھایا، اور سگریٹ سلگا کر اس کے پوشیدہ اعضاء کو جلاتا رہا۔ اس آگ سے عائشہ کے جسم کے کئی حصے مستقل طور پر سیاہ ہو گئے تھے۔
فنون تعذیب
ام شیما اپنی سات ماہ کی بیٹی کے ساتھ گھر لوٹ رہی تھیں، انھیں گھر کے اطراف میں غیر معمولی نقل و حرکت کا احساس ہوا۔ وہ اوپر کے زینے پر تھیں جب انھوں نے دروازے کا قفل کھولنے کے لیے چابی لگائی تو اندر سے گولی چلنے کی آواز سنائی دی۔ انھوں نے شوہر کو بھاگ جانے کا اشارہ کیا ، اسی وقت خفیہ والوں نے دروازہ کھول کر انھیں اندر گھسیٹ لیا، اور ان سے تفتیش شروع کر دی۔ ان کی مخبری بھی سائح کیالی نے کی تھی، انھوں نے شوہر اور ان کے ساتھیوں کے بارے میں کچھ بھی بتانے سے لاعلمی ظاہر کی، تو اہل کار انھیں عزت پر حملے کی دھمکیاں دینے لگے، اور پھر عملاً انھوں نے انھیں زیادتی کا نشانہ بنانے کی کوشش کی مگر ام شیماء اپنا بچاؤ کرتی رہیں۔ اللہ تعالیٰ نے اہل کاروں کے دل میں ان کا رعب ڈال دیا اور ان کی عزت محفوظ رکھی ۔ انھیں عمر حمیدہ کے سامنے پیش کیا گیا، جس نے ان پر تعذیب کا ہر داؤ آزمایا، انھیں چھت سے الثالث کا کر قصاب کی مانند کھال ادھیڑی ، وہ انھیں مارتے رہتے اور یہ لاحول ولا قوۃ پڑھتی رہتیں۔ ان کے سینے میں بجلی کے کرنٹ لگائے گئے ، شدت الم ، خوف اور توہین کے احساس سے ان کے پستان سے دودھ جاری ہو گیا۔ تحقیقات کے بعد انھیں بھی کفر السوسه ای بلاک میں منتقل کر دیا گیا۔
مقتول کی لاش کو سزا
فوزیہ پانچ بچوں کی ماں تھی ، ان کا شوہر شہید کر دیا گیا اور حکومتی اہل کار قتل کے بعد ان کی نعش کو ایک ٹینک پر رکھ کر پورے حلب میں پھراتے رہے اور فوزیہ کو اٹھا کر جیل لے آئے جہاں انھیں شدید عذاب دیا گیا۔ اگر چہ وہ اپنے بارے میں کچھ زیادہ نہیں بتاتی تھیں، بلکہ اکثر بالکل خاموش رہتی تھیں، تاہم ان کے جسم پر تعذیب کے نشانات نظر آتے تھے۔ ان کے پاؤں نیلے ہو چکے تھے اور ان کے ناخن کھینچ کر اکھاڑے گئے تھے۔ کچھ مہینے تک ان کی یہ حالت تھی کہ وہ کسی سے بات نہ کرتیں اور جوں ہی دروازہ کھلتا یا کوئی اندر آتا وہ سر پر کمبل اوڑھ کر دیوار کی جانب منہ کر لیتی تھیں۔ ان سب خواتین پر اخوان سے تعاون یا تعلق کا الزام تھا سوائے منیرہ کے جو اشترا کی تھی اور اشتراکی نظریات کی حامل حکومت میں بھی قید کاٹ رہی تھی ) ۔ منیرہ پر جیل میں کوئی خاص پابندی تھی، اس کے ملاقاتی بھی آتے ہیں میں اس کے پاس ریڈیو بھی تھا۔ منیرہ اچھی انسان تھی، ہماری اس سے اشتراکیت کے موضوع پر بات بھی ہو جاتی تھی۔ وہ ہمارے دینی معاملات کا خیال رکھتی اور نماز یا تلاوت کے وقت ریڈیو کی آواز کم کر دیتی تھی۔ ہمارے کئی حقوق کی جدو جہد میں منیرہ ہمارے ساتھ شریک رہی، اور ہمارے ہمراہ ہڑتال میں بھی حصہ لیا۔ ہمار ا بلاک درمیانے حجم کا کمرہ تھا، جس کے بائیں جانب بغیر دروازے کے غسل خانہ تھا، جس پر ہم نے رہی باندھ کر کمبل ڈال دیا تھا۔ اس میں گیز ربھی موجود تھا۔ اگر چہ لڑکوں کے کمروں سے متصل غسل خانے تھے نہ انہیں گرم پانی کی سہولت حاصل تھی، بلکہ اندر پانی کی ٹونٹیاں تک نہ تھیں۔ اسی وجہ سے نوجوانوں کو ہر کھانے کے بعد الخط (اجتماعی بیت الخلا ) میں جانا پڑتا تھا۔ جبکہ ہمارے بلاک کا دروازہ اکثر اوقات بند ہی رہتا ، بلاک میں فقط ایک کھڑ کی نما سوراخ تھا، جسے دونوں اطراف سے لوہے کی سلاخیں لگا کر محفوظ بنایا گیا تھا اور اس کے
قسط نمبر دس کے لیے انتظار کریں
Tags
واقعات و حوادث
اللھم حفظنا
جواب دیںحذف کریںاللہ رحم کا معاملہ فرمائے اپنے غیب سے ہر محتاج کی مدد فرمائے آمین
جواب دیںحذف کریں