قسط نمبر چھبیس ، ملک شام ، صرف پانچ منٹ


پہلے قدم کی کامیابی ہوتی، ان زائرین کی مکمل جامہ تلاشی لی جاتی، ان کی لائی ہوئی اشیا کو پھونک بجا کر چیک کیا جاتا، ان سے ان اشیا کو لانے کا سبب معلوم کیا جاتا، جو اشیاء قانون کے مخالف معلوم ہوتیں انھیں چھانٹ کر الگ کر دیا جاتا اور وہ اشیاء بھی الگ کرلی جاتیں جن پر کسی تفتیشی اہل کار کی نظر خاص پڑ جاتی۔ وہ اسے اپنے لیے مانگ لیتا یا اس میں سے من مانا حصہ وصول کرلیتا یا اسے عطیہ کے طور پر قبول کرلیتا۔ اگلے مرحلے میں زائر کو ہمارے سامنے لایا جاتا، ہمارے اور ان کے بیچ آہنی سلاخیں حائل رہتیں، پولیس اہل کاران ہی گزرگاہوں کے بیچ آجا کرتے اور کبھی تو ہماری گفتگو میں بھی شریک ہوجاتے۔ وہ رات میں کبھی بھلا نہیں سکتی جب یہاں آنے کے بعد پہلی بار جمعہ کو ہماری ملاقات آئی تھی۔ ہمارے گھر والوں کو ہمارے متعلق خبر مل چکی تھی کہ ہمیں یہاں منتقل کیا گیا ہے۔ گزشتہ جمعہ غروضہ کے گھر والے آئے تھے اور میرا خیال تھا کہ انھوں نے میرے گھر والوں سے رابطہ کیا ہوگا۔ اس وقت تک مجھے معلوم نہ تھا کہ میرے گھر والے یہ خبر سننے کو زندہ نہیں رہے اور آٹھ ماہ قبل حمات کے واقعات میں وہ اپنی نذر پوری کر چکے ہیں، لیکن غروضہ کے گھر والوں کو یقیناً معلوم تھا۔ اگر چہ اس کی والدہ بھی اس واقعے میں شہادت کے رتبے پر فائز ہو چکی تھیں، اس ہفتے وہ غروضہ سے ملنے آئے تو انھوں نے یہ کہہ کر معذرت کر لی کہ حمات میں بڑی تبدیلیاں آ چکی ہیں اور وہ میرے گھر کے بارے میں یقینی طور پر نہیں جانتے کہ کہاں واقع ہے۔ وہ مجھے ان حوادث کے بارے میں تفصیل سے بتانے لگے، لیکن کسی نے بھی میرے اہل خانہ یا خاندان کے بارے میں تذکرہ نہ کیا۔ اگلی ملاقات میں ہماری ساتھی سناء کے گھر والے آئے، تو میں نے ان سے درخواست کی کہ وہ دمشق میں میرے چچا کے گھر جائیں اور انھیں میرے بارے میں بتائیں اور جب وہ ان کے پاس گئے تو چچا نے انھیں میرے کنبے کی شہادت کے بارے میں بتایا، وہ میرے بارے میں خوف زدہ ہو گئے اور چچا کو میرے قطنا منتقل ہونے کے بارے میں کچھ نہ بتایا۔ اگلے ہفتے مجھے یہی کہہ دیا کہ انھی چچا کا گھر نہیں مل سکا۔ اس سے اگلے ہفتے وہ کہنے لگے کہ ہمیں گھر تو معلوم ہو گیا ہے مگر وہاں ایک خاتون بیمار تھیں اس لیے ہم نے انھیں آپ کے بارے میں بتانا مناسب نہیں سمجھا۔ مجھے محسوس ہونے لگا کوئی بات ضرور ہے جو مجھ سے چھپائی جا رہی ہے۔ وہ چلے گئے تو میں نے سناء سےعلاحدگی میں پوچھا: آؤ میں تمھیں بتاؤں۔ تمھاری والدہ میری چچی کے پاس گئی ہیں اور میری چچی نے انھیں کچھ بتایا ہے۔ بتاؤ کیا بات ہے؟ کیا میرے والد فوت ہو گئے ہیں؟ وہ اپنے اوپر قابو نہ رکھ سکی اور ہولے سے بولی: اللہ ان پر رحم فرمائے۔ میں نے کہا: اللہ ان پر رحم فرمائے۔ اگر وہ فوت ہو گئے ہیں تو اللہ ان پر رحم فرمائے۔ وہ کہنے لگی: اتنے آرام سے کہہ رہی ہو، ’’اللہ يرحمه‘‘۔ میں نے کہا کہ شاید جیل کے آلام انسان کے لیے بہت کچھ سہل بنا دیتے ہیں۔ اللہ ان پر رحم فرمائے اور اگر وہ فوت ہو گئے ہوں تو میں ان کے لیے کیا کر سکتی ہوں؟ اگر میں دیواروں سے سر ٹکراؤں تو بھی وہ لوٹ کر نہیں آئیں گے۔ وہ پھوٹ پھوٹ کر رونے لگی اور ابھی بات اس کے منہ میں ہی تھی جب میں نے اس سے پوچھا: کیا ان کے علاوہ بھی کوئی فوت ہو گیا ہے؟ اس نے اثبات میں سر ہلایا۔ میں نے پوچھا: امی فوت ہو گئی ہیں؟ وہ بولی: اللہ ان پر رحم فرمائے۔ میں نے بے قراری سے چیخ اٹھی: میرے بہن بھائی؟ ان کے پاس کون ہے؟ وہ سسک اٹھی: وہ تمھاری ماں کے ساتھ ہی چلے گئے ہیں۔ وہ انھیں چھوڑنے پر راضی نہ تھیں تو انھوں نے ان کو بھی ان کے پاس ہی بھیج دیا۔ میں نے اسے جھنجھوڑ کر کہا: یہ کیا ہذیان بک رہی ہو۔ کیا تم مجھ سے مذاق کر رہی ہو؟ میرے سب بھائی بہن مر گئے؟ بولی: ہاں سب کے سب۔ اللہ ان سب کو اپنی رحمتوں میں رکھے۔ کیا اچھا نہیں ہو گیا، اگر ان میں سے کوئی بچ جاتا تو اس کی پریشانی رہتی۔ میں بولی تو میری آواز کسی کنویں سے آرہی تھی: اچھا خلاص۔ اب مزید کچھ نہ کہنا۔ اس سانحہ ارتحال کی خبر کے بعد میں کچھ سننے اور سمجھنے کی حالت میں نہ رہی۔ اگلی ملاقات میں چچا جان اور چچی جان آئے، میں نے نظر اٹھا کر دیکھا تو چچی جان نے سیاہ لباس پہن رکھا تھا۔ میں نے حیرت سے پوچھا: چچی جان۔ آپ نے سیاہ لباس کیوں پہن رکھا ہے؟ وہ بدقت بولیں: بخدا ہم پر سیاہ دن آگئے ہیں میں نے پوچھا: کیا دادی جان فوت ہو گئی ہیں؟ وہ کہنے لگیں: نہیں- میں نے کہا: پھر آپ نے سیاہ لباس کیوں پہن لیا ہے؟ چچا جان نے مجھے آنکھ سے اشارہ کیا کہ کوئی اور بات کروں، لیکن میں اپنے اوپر قابو نہ رکھ سکی اور ان ہی سے سوال کیا: چچا جان آپ نے مجھے اشارہ کیوں کیا ہے کوئی بات ہے؟ وہ چچی جان کی حالت اور صدمے کے اثرات کے سبب کوئی بات دہرانا نہ چاہتے تھے، اس لیے کہنے لگے: کچھ نہیں۔ کچھ نہیں ہوا۔ میں نے چچی جان سے پھر کہا: ٹھیک ہے لیکن آپ نے سیاہ لباس کیوں پہن رکھا ہے؟ آپ دل شکستہ دکھائی دیتی ہیں۔ وہ پھیکی سی ہنس دیں اور چچا کے یہ کلمات میرے لیے کسی زلزلے کی مانند تھے: تم ان سے کیسے پوچھ رہی ہو۔۔ کیا تمھیں خبریں ملی ہیں؟ میں گویا اپنے حافظے میں سب باتیں دہراتے ہوئے گویا ہوئی: ہاں۔۔ مجھے خبر ملی ہے کہ میرے گھر والے شہید کر دیے گئے ہیں، لیکن میں تو یہ پوچھ رہی ہوں کہ انھوں نے ماتمی لباس کیوں پہن رکھا ہے۔ مجھے خدشہ ہے کہ کہیں انھوں نے اسے میرے گھر والوں کی وجہ سے نہ پہنا ہو اور میں بھول گئی کہ انھیں اپنے بھائی کے گھر والوں کا صدمہ ہے۔ میرے چچا عجیب حیرت سے میرے سامنے آکر کہنے لگے: یہ تمھارے گھر والوں پر صدمے میں ہے۔ سمجھے تم!! میں نے ٹھنڈے لہجے میں چچی جان سے کہا: دیکھیے، اگر آپ آئندہ ماتمی لباس میں مجھ سے ملنا چاہیں تو بہتر ہے کہ نہ آئیں۔۔ کیوں کہ شہید زندہ ہوتے ہیں مردہ نہیں اور اگر آپ اس لیے غم زدہ ہیں کہ وہ زندہ ہیں تو پھر بھی میرے پاس نہ آئیں گے یہ باتیں چچی جان پر سخت گراں گزر رہی تھیں، لیکن میری حالت ان سے بھی بری تھی اور پھر وہ زور زور سے رونے لگیں۔ چچی جان نے انھیں چپ کروانے کی کوشش کی اور وہ بڑی مشکل سے خاموش ہوئیں، انھیں میری بات بھی سمجھ آگئی اور اگلی مرتبہ جب میرے پاس آئیں تو ماتمی لباس اتر چکا تھا۔ لیکن مجھے ابھی تک اپنے گھر والوں پر ٹوٹنے والے ستم کی تفصیل معلوم نہیں ہوئی تھی۔ یہ سب مجھے ام ماجدہ سے معلوم ہوا۔ وہ ماجدہ کے والد کے ملاقات سے کروانے لائی تھیں۔ اس کے والد کا سر سفید ہو گیا تھا اور اس کی گرفتاری کی خبر سن کر انھیں ڈھیل چیئر پر لائی تھیں۔ ماجدہ کو خبر ملی کہ وہ اس کے والد ہیں تو وہ چھلانگ لگا کر ان کے پاس پہنچی، ناقابل بیان خوشی کے لمحات نے اسے گنگ کر دیا، اس کی زبان پر گرہ لگ گئی اور کچھ دیر بعد اس نے اپنے آپ کو سنبھالا اور معذرت خواہانہ انداز میں بولی: بخدا میں نے آپ کو پہچانا نہیں تھا۔ آپ کتنے بوڑھے ہو گئے ہیں۔ وہ بولے: اللہ کی قسم تو نے مجھے بوڑھا کر دیا ہے۔ ماجدہ کے والد اخوان مخالف جماعت کے ممبر تھے اس لیے اس کا خیال تھا کہ اس گرفتاری پر وہ اس ناراضی کا اظہار کریں گے، لیکن جب وہ اس سے پہلی مرتبہ ملے تو رندھی ہوئی آواز میں کہنے لگے: ’’دیکھو بیٹا۔۔ میں یہاں سر اونچا کر کے آیا ہوں اور میرے لیے یہ بات فرف کی ہے اور میں اس پر الحمدللہ کہتا ہوں۔‘‘

اور اگلی ملاقات میں ام ماجدہ آئیں تو ہماری خوشی دیدنی تھی اور ام ماجدہ نے سب سے پہلے مجھے عارف بھائی کی شہادت کے واقعے سے آگاہ کی۔ انھوں نے شروع سے ساری تفصیلات بتائیں۔ انھوں نے بتایا کہ خفیہ والوں نے جب ایی کو جیل سے رہا کیا تو وہ ہمارے گھر کے باہر گھاٹ لگا کر بیٹھ گئے، ان کا خیال تھا کہ بیٹے ماں سے ملنے ضرور آئیں گے اور اوروںھیں پکڑ لیں گے، لیکن جب ان میں سے کوئی بھی نہ آیا تو انھوں نے میرے والد کو تعذیب دینا شروع کر دی۔۔ وہ گاہے بگاہے انھیں مارتے ہوئے گھر کے سامنے واقع باغ میں لے آتے۔۔ کبھی لوگوں کے سامنے انھیں پیٹے اور کبھی ان کی داڑھی کو آگ لگانے کی کوشش کرتے۔۔ انھیں سڑکوں پر گھسیٹتے اور ان سے انتہائی ذلت آمیز سلوک کرتے۔۔ وہ ان سے حقارت سے پیش آکر دوسروں کو بھی دھمکاتے۔۔ میری والدہ اس ظلم و ستم کو دیکھ کر گھر سے باہر نکل آتیں اور شور مچاتیں اور انھیں بد دعائیں دیتیں۔ مسئول الدور یہ نہایت ڈھٹائی سے کہتا: ’’اپنے بیٹے ہمارے حوالے کر دو، ہم تمھارے شوہر کو بھی چھوڑ دیں گے اور تمھاری بیٹی بھی تمھیں لوٹا دیں گے۔‘‘

وہ اپنے مزاج کے مطابق غضب ناک ہو کر کہتیں: اسے اپنے ہاتھوں سے میرے حوالے کرو۔۔ تا کہ میں اسے اپنی آنکھوں سے دیکھ لوں اور اس کا ہاتھ تھام کر تمھیں بتاؤں کہ میرے باقی بچے کہاں ہیں، لیکن اللہ کی قسم کہا کر کہتی ہوں جب تک میری بیٹی میرے حوالے نہ کرو گے تمھیں کسی چیز کو ہاتھ نہ لگانے دوں گی، خواہ میری جان ہی چلی جائے۔ پھر حلب میں بھائی وارث کی شہادت کا سانحہ پیش آیا، (اس وقت ان کی عمر تقریباً اٹھارہ برس تھی) گھر پر حملے کے دوران انھیں اخوان ساتھیوں کے ہمراہ گرفتار کیا گیا اور یہ میرے گھر والوں کی شہادت سے کچھ دن پہلے کا واقعہ ہے۔ اتنی اچانک خبر اتنی نے بڑے حوصلے سے سنایا اور اپنے دل کے دیوانوں میں چھپا لیا۔ انھوں نے اباجان کو بھی اس کی ہوا نہ لگنے دی جو پہلے ہی نیزوں کی زد پر تھے۔ امی بہت بے چین ہوتیں تو عارف کی تصویر اٹھا کر ماجدہ کے پاس چلی جاتیں اور وارث کی تصویر اپنے سینے سے لگا کر خوب روئیں اور خاموشی سے آنسو پونچھ کر گھر چلی جاتیں اور ان دنوں میں بھی وہ ملاقات کے وسیلے تلاش کرتی رہیں۔ اسی طرح ایک مرتبہ دل کے ہاتھوں مجبور ہو کر وہ ام ماجدہ کے ہمراہ کفر الوسوسہ جیل پہنچ گئیں اور ناصیف سے مل کر مجھ سے ملاقات کی اپنی سی کوشش کر لی، مگر ناصیف نے بڑے کٹھور پن سے یہ کہہ کر مایوس کر دیا: اللہ کی قسم کھا کر افسوس سے کہتا ہوں، ہمارے ہاں اس نام کی کوئی قیدی نہیں۔

أم ماجدہ کہتی ہیں کہ یہ جواب سن کر میری ماں پاگل ہونے کے قریب تھیں۔ وہ اس کے دفتر سے نکل کر ہمارے بلاک کے قریب آگئیں اور ایک اہل کار سے بڑی منت سے کہا کہ وہ انھیں اشارہ ہی بتا دے یا کوئی حرکت ہی کر دے کہ انھیں معلوم ہو جائے کہ ان کی بیٹی یہاں موجود ہے، لیکن اس ظالم نے اتنی مدد بھی نہ کی اور وہ اسی طرح بھڑکتی آگ کے ساتھ واپس چلی گئیں اور یہی حالات حمات کے حوادث کی ابتدا تھی ہم اس وقت کفر السوسہ جیل میں ہی تھے جب ماہ فروری ۸۲ء میں حمات کا حادثہ پیش آیا، جس سے میں اس قید و مشقت کے دوران میں بالکل بے خبر تھی، کڑے پہروں کے باوجود بھی کچھ کانوں میں اس کی بھنک پڑ گئی، لیکن افسر ناصیف نے انھیں سختی سے دھمکا یا کہ وہ اس بارے میں کوئی بات نہ کریں، بلکہ میرے بارے میں خصوصی طور پر کہا کہ مجھے میرے گھر والوں کے انجام کے بارے میں نہ بتایا جائے، لیکن جب ہم قطنہ جیل آگئے تو کئی خبریں آگئیں اور یہاں سے کتنے ہی دردناک اور اندوہ ناک قصے مجھے تک بھی پہنچ گئے۔ ام ماجدہ جیل میں ملاقات کو آئیں تو ان سے بھی کئی تفصیلات معلوم ہوئیں، خاص طور پر میرے گھر والوں کے بارے میں تفصیلات سے انھوں نے آگہی کیا۔ انھوں نے بتایا کہ سب سے پہلے انھوں نے یہی خواب میں میرے چھوٹے بہن بھائیوں کو ایک چار پائی پر سوئے ہوئے دیکھا تھا، کہ وہ پانی میں ڈوبے ہوئے ہیں اور کتنی عجیب بات تھی کہ صاف عمدہ پانی کے اندر وہ زندہ تھے۔ انھوں نے دیکھا کہ میری امی اندر داخل ہوتی ہیں اور اس پر لیٹ جاتی ہیں اور ان کی گود دو حصوں میں تقسیم ہو جاتی ہے۔ جب وہ بیدار ہوئیں تو ان کا دل دھڑک اٹھا کہ میرے گھر والے کسی خطرے سے دوچار ہیں۔ وہ فورا اٹھیں اور اپنے شوہر سے کہا کہ وہ میرے گھر والوں کا پتا لگائیں اور کوشش کر کے انھیں اپنے ساتھ ہی لے آئیں ۔ ماجدہ کے گھر والے ہمارے پڑوس ’’حی طوافرہ‘‘ میں طویل عرصے رہنے کے بعد نئے محلے میں حص رود پر منتقل ہو گئے ۔ یہ عملاً دیہاتی علاقہ تھا اور پرانے شہر کا پورا چکر کاٹ کر وہاں جانا پڑتا تھا۔ ام ماجدہ کے شوہر کی نماز کی ادائیگی کے فوراً بعد وہاں کے لیے نکل کھڑے ہوئے ۔ حمات کے قریب پہنچے تو اس کے سب داخلی دروازوں پر سخت پہرے لگے ہوئے تھے۔ وہ ہر طرح کی کوشش کے بعد ناکام و نامراد واپس آگئے اور پھر حالات ناگفتہ بہ ہو گئے ۔ حمات کا رابطہ بیرونی دنیا سے مکمل طور پر منقطع کر دیا گیا تھا، جبکہ اس کی شاہراہوں میں ذبح خانوں میں تبدیل ہو گئیں اور اس کے باشندے سینکڑوں کی تعداد میں قتل ہونے لگے۔ اس دوران میرے چچا جان نے بھی کوشش کی کہ وہ دمشق کے راستے حمات میں داخل ہو کر میرے گھر والوں کا پتا لگائیں اور ان کی کسی طرح مدد کریں، مگر اس میں خود ان کی جان کو خطرہ تھا، اس لیے ان کی بیوی نے انھیں نہ جانے دیا اور دیگر ذرائع سے کوشش کرنے کو کہا۔ چچی جان خود آگے بڑھ کر ہمارے محلے تک پہنچ گئیں، مگر جوں نے انھیں واپس لوٹا دیا اور انھیں کسی طرح آگے نہ جانے دیا، اس وقت میرے ابا جان کو شہید ہوئے چار دن ہو گئے تھے۔ ان کی میت سڑک پر پڑی تھی اور کسی میں اتنی جرات نہ تھی کہ لاش کو وہاں سے اٹھا ہی لیتا۔ ان کی شہادت کا واقعہ کچھ یوں ہے کہ ہمارے محلے کے کچھ افراد نے جدوجہد شروع کی اور حکومتی اہل کاروں پر چیز ہائی شروع کر دی، تو ان کے خلاف حکومت نے محاصرہ کر دیا اور پورے محلے کی بجلی، پانی اور خوراک کے پہنچنے کے راستے بند کر دیے ۔ میری معلومات کے مطابق یہ محاصرہ سات دن تک جاری رہا اور ہمارے گھر میں کھانا اور پانی بالکل ختم ہو گئے ۔ اس کے باوجود میرے ابا جان باہر نکلے اور حکومتی اہل کاروں سے درخواست کی کہ بچوں کے لیے کچھ کھانا دے دیں۔ میرے ایک ماموں جو قریب کے گھر کے کھڑکی کے سوراخ سے سارا منظر دیکھ رہے تھے، بتاتے ہیں کہ اس فوجی نے میرے ابا جان کو بری طرح ڈانٹا اور واپس لوٹنے کا حکم دیا، لیکن آدمی بھوک اور پیاس سے بلکتے ہوئے بچوں کو کب تک دیکھ سکتا ہے۔ ابا جان بے چین ہو کر دوبارہ باہر نکل آئے اور فوجی سے کہا: ’’ہمیں چھوٹے بچوں کے لیے روٹی کا ٹکڑا ہی دے دو۔‘‘ سپاہی نے جھڑک کر کہا: بہتر ہو گا کہ تم لوٹ جاؤ، اگر تم اپنے آپ کو آگ میں جھکنا اور زمین پر پڑا ہوا نہیں دیکھنا چاہتے تو فوراً واپس چلے جاؤ۔ ابا جان ایک لمحے کو اندر آئے، لیکن بچوں کے درد بھرے چہرے اور ان کا رونا بلکنا نہ دیکھ سکے اور ایک مرتبہ پھر باہر چلے گئے اور انھیں چیخ کر کہا کہ روٹی کا ٹکڑا ہی دے دو، میرے بچے بھوک سے مر جائیں گے۔ اب کی بار فوجیوں کی جانب سے کوئی جواب نہ آیا، بلکہ ایک سنسناتی ہوئی گولی آئی اور ابا جان زمین پر گر پڑے۔ میرے ماموں کی چیخیں نکل گئیں اور وہ بے ہوش ہو کر گر پڑے۔ جب ان کی بہو انھیں اٹھانے کے لیے آگے آئی تو وہ فوجیوں کی نظر میں آگئی، انھوں نے ان کے گھر پر روشنی کا گولہ پھینکنا اور تفتیش کے بہانے ریڈ شروع کر دیا اور گھر میں موجود سب افراد کو خواتین اور بچوں سمیت پکڑ کر لے گئے۔ ان ہی لمحوں میں جب میرے بھائی ماہر نے گھر کے تہہ خانے میں گولی چلنے کی آواز سنی، تو وہ سب لوگ ہائیڈ آؤٹ میں بیٹھے تھے۔ وہ حالات کی خبر لینے باہر نکلا۔ جب اس نے ابا جان کو اپنے سامنے گرا ہوا دیکھا تو وہ فوراً اندر گیا اور ’’شبیبہ ثورۃ‘‘ کا اسلحہ نکال لایا، جو ’’امن ثورۃ‘‘ کے دفاع کے لیے دیا گیا تھا، لیکن ابھی تو اس کی اپنی عمر تیرہ برس بھی نہیں ہوئی۔ ماہر بھاگا اور فوج پر فائرنگ کرنے لگا۔ جنھوں نے اس کے باپ کو مار دیا تھا، لیکن اس کی گولی ان تک پہنچنے سے پہلے ہی اس پر گولیوں کی بوچھاڑ ہو گئی اور وہ بھی شہید ہو گیا۔ اس واقعے کے بعد ناصیف نے ماجدہ اور میری دوسری ساتھیوں سے بڑی نخوت کے ساتھ کہا تھا: ’’ہم نے اسے اسلحہ دیا تھا تاکہ وہ ہمارا دفاع کرے اور وہ ہمیں ہی مارنے کے لیے کھڑا ہوا، تو ہم نے اسے مار دیا۔ یہ سب لوگ خائن ہیں۔ اس لیے ہم نے انھیں چار چار ٹکڑے کر دیے، یہ اخوان کی پیڑی ہیں، یہ بھی بڑے ہو کر اخوان ہی بن جائیں گے۔‘‘ اس کے بعد میری امی ان پر روتی ہوئی باہر نکلیں، وہ انھیں برا بھلا کہ رہی تھیں اور ان پر لعنت برسارہی تھیں، ان ظالموں نے اپنے جرائم کی انتہا کر دی اور وہ ابھی دروازے تک بھی نہ پہنچی تھیں کہ ان پر گولیوں کی بوچھاڑ کر دی گئی۔ پھر وہ گھر کے اندر داخل ہو گئے اور گھر میں بھی جو نظر آیا اس کا کام تمام کر دیا: یا سر چار برس کا تھا اور قمر پانچ سالہ بیٹی تھی، رنا چھے برس کی تھی اور سات برس کی صفائی نے ابھی نیا نیا سکول جانا شروع کیا تھا۔ ان سب کو مارنے کے بعد میری بیس سالہ بہن طلال کو بھی شہید کر دیا۔ میرے تین بھائی جو باقی بچ گئے تھے ان میں سے صفوان شام سے باہر تھے اور غسان اور سامر حلب میں کسی مقام پر چھپے ہوئے تھے۔ بس یہی خاندان میں زندہ رہ گئے تھے، باقی سب نے تو اپنی نذر راکھی ہی پوری کر دی اور ان کے لاشے یوں ہی گور و کفن پڑے رہے، حتیٰ کہ جب شہر کا کریک ڈاؤن ختم ہوا اور قتل و غارت اور تباہی و بربادی کا سلسلہ ختم ہوا تو دوسرے مقتولین کے ساتھ ان کو بھی کسی تمیز اور تخصیص کے بغیر اجتماعی طور پر دفن کر دیا گیا اور جب لوگوں کے لیے ممکن ہوا کہ وہ اپنے گھروں سے نکل کر تباہی کے اثرات دیکھیں، تو میرے چچا اور چچی جان بھی ان کا حال پتا کرنے نکلے، مگر انھیں ہمارے گھر کے دروازے کے پاس گرا ہوا میری امی کا دوپٹہ ملا، جو بیچ میں خون سے بھرا ہوا تھا اور گھر کے فرش اور دیواریں میرے بہن بھائیوں کے خون سے لتھڑی ہوئی تھیں، مگر ان کی میوں کا کوئی پتا نہ تھا۔ میرا چودہ برس کا بھائی عامر بھی ان ہی حوادث کے دوران شہید ہوا مگر اپنے گھر سے دور، شارع ۸ مارس آراء میں۔ امی نے عامر کو ہمارے چچا جان جو سعودیہ گئے تھے ان کے ہاں...

7 تبصرے

آپ اپنی رائے ضرور لکھیں

جدید تر اس سے پرانی